خواتین تنظیم کار کشمیر میں رکاوٹیں توڑتے ہوئے

مفتی سعدیہ اپنی دکان میں۔ تصویر اجازت سے استعمال کی گئی۔

ہندوستانی زیر انتظام مقبوضہ کشمیر میں، بندِش اور کرفیوز اکثر زندگی اور کاروبار کو سست بناتے ہیں۔ کسی نئے کاروبار کو قائم کرنا تباہ کن ہوسکتا ہے مگر عورتوں کے لیے، جن کو کام کی جگہ میں ان کے کردار کے بارے میں سماجی معیاروں سے لڑنا چاہیے، رکاوٹ دس گنا ہے۔ اس کے باوجود، خواتین کی ایک ایسی نسل ہے جو رکاوٹوں کو توڑ اور اپنے کاروبار کو قائم کر رہی ہیں۔

جب کشمیر کے لباس کے کاروبار میں کوئی عورت نہیں تھی تب مفتی سعدیہ نے اپنا کاروبار شروع کیا۔ پرانی نوکری چھوڑنے اور وادی میں آزادانہ طور پر کام کرنے کے فیصلے کے بعد اس کی دکان سرینگر میں پہلی بار تھی۔

بہت ساری رکاوٹوں اور مقابلوں کے بعد، سعدیہ نے 2014 میں ایک مال میں اپنا برانڈ ‘Hangers, The Closet‘ شروع کیا۔ منفی تبصرے کے باوجود، اس نے کبھی واپس نہیں دیکھا:

مفتی سعدیہ،24، نے سرینگر میں اپنی دکان Hangers, The Closet شروع کی۔ سارہ سٹی سینٹر میں صرف خاتون کی دکان۔ #کشمیر

“میرے والد کو یقین نہیں تھا کہ میں کیا کر رہا تھی کیونکہ تب میں صرف 24 سال کی تھی، لیکن اب میں جو کچھ بھی کرتی ہوں وہ اس میں مدد کرتے ہیں۔” سعدیہ نے ایک گاہگ کے ہوتے ہوئے کہا۔

اس کا خاندان سعدیہ کے لئے حوصلہ افزائی کا ذریعہ رہا ہے، جنہوں نے ہمیشہ ایک غیرمستحکم ریاست میں ایک نئی اور خاتون تنظیم کار شخص بننے کی مشکلات سے نمٹنے کے لیے مدد کی ہے۔ ہینگرز اب کشمیر کے علاقے میں ایک مشہور برانڈ ہے۔

سعدیہ انسٹاگرام اور فیس بک کے ذریعے اپنے زیادہ سے زیادہ گاہک بناتی ہے۔ اس کے زیادہ تر ڈیزائنر کا مقصد کشمیر کے روایتی پہلوؤں کو مغربی ٹچ دینا ہے۔ صفر سے شروع ہونے کے بعد، انہوں نے گیارہ افراد کے درمیان ایک عورت کو بھی رکھ لیا ہے۔

سعدیہ نے مزید کہا کہ “جواب ابھی تک اچھا ہے، مجھے سماجی میڈیا پر منفی رائے ملتی ہے، خواتین کی طرف سے بھی، لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ منفی رائے مجھے بہتر انسان سے بہتر ڈیزائنر بناتی ہیں۔”

جبکہ سعدیہ نے اپنی لباس کی لائن قائم کرنے کے لئے بہت سی لڑکیوں کو حوصلہ افزائی دی ہے،سرینگر کے پرانے شہر میں ایک اور عورت ہے، جس کے کاروبار کی آمدنی نے اپنے خاندان کو ناگزیر دیوالیہ پن سے بچایا ہے۔

رفعت مسودی۔ تصویر اجازت سے استعمال کی گئی۔

رفعت مسودی دو کی والدہ ہے اور جلد ہی اپنے والدین کی موت کے بعد، خاندان سرینگر کے سب سے زیادہ مستحکم علاقے میں واقع بیٹ مینوفیکچرنگ فیکٹری کو بند کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا.

تمام مشکلات کو دیکھتے ہوئے، رفعت نے اپنے شوہر کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اسے فیکٹری چلانے دیں جو بہت سے محنت کاروں کو ملازم کرتی ہے۔ سماجی پس منظر کے باوجود، اس نے سال 2000 میں اس چیلنج کو قبول کیا:

ای ایکس سی: سرینگر کے شہر کے اندر، جہاں فوجی اور شہریوں کے درمیان احتجاجی مظاہرے رہائش پذیر رہتے ہیں، رفعت مسعودی چپ چاپ ایک کہانیاں لکھ رہی ہے۔ کشمیر میں صرف ایک عورت جس کی بیٹنگ فیکٹری ہے اپیل کرتی ہے ”یہ وقت ہے @imVkohli @msdhoni @ImRo45  ہم سے بلے خریدیں” میری رپورٹ

ہر صبح اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے بعد، وہ کام کی نگرانی کے لئے اپنے گھر کے قریب چھوٹے یونٹ میں قدم رکھتی ہے۔  آج، رفعت کا بلا یونٹ مہینے میں ہزاروں بلّوں کی پیداوار کرتا ہے جو مہاراشٹرا اور کیرلا سمیت بہت سی ریاستوں میں منتقل ہوتے ہیں۔

“سب کچھ منظم کرنا مشکل ہے. صبح میں گھر پر اپنا کام کرتی ہوں، پھر میں اس یونٹ میں آ تی ہوں۔ بعد میں جب بچے 4 بجے آتے ہیں تو میں انہیں دیکھنے جاتی ہوں۔  میں اپنی ساس کی بھی دیکھ بھال کرتی ہوں۔”

حالیہ دنوں میں، بہت سی کشمیری خواتین قدامت پرست معاشرے میں کامیاب کاروباری تنظیم کاروں میں تبدیل ہوئی ہیں۔ اب ان میں سے بہت اپنے خوابوں کا بہادری سے پیچھا کر رہی ہیں۔

رفعت مسودی۔ تصویر اجازت سے استعمال کی گئی۔

اب رفعت بین الاقوامی اور قومی کھلاڑیوں کے ہاتھوں میں اپنے بلوں کو دیکھنا چاہتی ہے۔ یہ تنظیم کاریں ریاست میں بہت سی دوسری خواتین کے لیے حوصلہ افزائی  بن چکی ہیں جو اپنے کاروبار کا آغاز کرنے کے خواب دیکھتی ہیں۔

یہ مضمون کشمیر سے ایک شراکت دار نے لکھا ہے جو گمنام رہنا چاہتے ہیں۔

بات چیت شروع کریں

براہ مہربانی، مصنف لاگ ان »

ہدایات

  • تمام تبصرے منتظم کی طرف سے جائزہ لیا جاتا ہے. ایک سے زیادہ بار اپنا ترجمہ جمع مت کرائیں ورنہ اسے سپیم تصور کیا جائے گا.
  • دوسروں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں. نفرت انگیز تقریر، جنسی، اور ذاتی حملوں پر مشتمل تبصرے کو منظور نہیں کیا جائے.