وں پر سب کی رسائی ہو سکےتمام زبانوں کی فہرست دیکھیں جن میں گلوبل وائسز پر ترجمہ کیا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر کی کہانیا

بنگلادیش میں “ایک ارب لوگ ساتھ کھرے ہیں” مہم کی شروعات

عورتوں اور بچوں کے خلاف تشدد سے مقابلے کا ایک نیا دن۱۴ فروری کو منایا جارہا ہے. اس دن کا نعرا “لڑو، اٹھو، اور ناچو” رکھا گیا ہے۔  یہ دن وی ڈے (Vday) کی پندرویں برسی کو منایا جائے گا۔

اس دن کو منانے کیلئے ایک ارب اٹھو کی مہم ڈھاکہ میں ۱۳ ستمبر ۲۰۱۲ کو شروع کی گئی تھی. اس مہم میں عورتوں کے حقوق کیلئے لڑنے والی مشہور تنظیموں نے ڈھاکہ میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں حصہ لیا،۔ یہ تقریب ڈھاکہ کے گوئٹے انسٹیٹوٹ(Goethe Institute) میں منعقد ہوئی تھی۔

لفظ ‘ارب’ ان ایک ارب عورتوں کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے دنیا کے ۱۶۰ ممالک میں ظلم کا مقابلہ کیا ہے. ان عورتوں نے وی ڈے کی پندرویں برسی سے پہلے مختلف اقسام کے کام بھی شروع بھی کردیے ہیں

One Billion Rising Logos in different languages including Bangla

وی ڈے ایک بین لاقوامی جدوجہد ہے جس کا مقصد عورتوں اور بچیوں کے خلاف ظلم کو بتدریج ختم کرنا ہے. ایک ارب اٹھو کی یہ مہم ایک امریکی مصنفہ اور  اداکارہ Eve Ensler کی تنظیم وی ڈے نے شروع کی تھی.
اس مہم کے نمائندوں اور ان کے ساتھیوں کی بنگلادیش میں ایک ہی مشن ہے. اس مہم کی وجہ سے لاکھوں عورتیں اور آدمی اب بول سکتے ہیں کہ ‘بہت ہو گیا ، اب ظلم ختم کرو!!!'۔ اس مہم کے لئے Eve نے ایک چھوٹے دورانیہ کی فلم بھی بنائی ہے جس کا ٹریلر یہ رہا:

دنیا میں ہر تین میں سے ایک عورت ظلم کا نشانہ بنتی ہے۔ جس کا مطلب ہوا کہ دنیا میں ایک ارب عورتوں کو اپنی زندگی میں ظلم سہنا پڑے گا۔

وی ڈے ۱۴ فروری کو منایا جائے گا تاکہ ایک ارب عورتوں کے خلاف ظلم و تشدد ختم کیا جاسکے. اس دن عورتیں گھر میں نہیں بیٹھی رہیں گی بلکہ مختلف تقریبات میں حصہ لیں گی۔

اس مہم کی افتتاحی تقریب میں شاعری کا اہتمام ہوگا، کہانیاں پڑھی جائیں گی، اور موسیقی کا پروگرم بھی منعقد ہوگا۔ اس پروگرام کی کچھ تصاویر مندرجہ ذیل دیکھی جاسکتی ہیں. تصویر از Facebook page of One Billion Rising Bangladesh۔

پروگرام کے چند منتظمین کی تصویر

پروگرام کے چند منتظمین کی تصویر

شادونا کا ایک خوبصورت رقص

شادونا کا ایک خوبصورت رقص

مرد بھی اٹھ کھڑے ہوں

مرد بھی اٹھ کھڑے ہوں

شایان مردوں کے رویے کے بارے میں کچھ گا رہے ہیں۔

شایان مردوں کے رویے کے بارے میں کچھ گا رہے ہیں۔

بنگلہ دیش کی آبادی ایک کروڑ ساٹھ لکھ ہے۔ یہاں پر عورتوں اور مردوں کا تناسب ۱۰۶ پر ۱۰۰ ہے۔ بنگلہ دیش میں اکثر عورتیں گھر میں یا گھر سے باہر ظلم و تشدد کا نشانہ بنتی ہیں۔

 

اقوام متحدہ کی انسانی ترقی کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں سب سے زیادہ ریپ واقعات ہوتے ہیں. ہر ۱۰۰۰ میں سے ایک عورت کا ریپ ہو چکا ہے. پولیس کے مطابق ۲۰۰۱ سے ۲۰۱۲ تک ۱۷۶،۶۹۱ عورتوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے. اس شمار میں تیزاب سے حملے، ریپ، اور قتل اور جہیز کے لئے ظلم کے واقعات شامل ہیں۔

 

ہماری حکومت کی کوششیں ان مظالم کو روکنے کے لئے ناکافی ہیں، زا زا فری (Zazafree) اپنے بلاگ تبدیل ہو اور تبدیلی لاو (Change and be the change) میں لکھتے ہیں:

 

শুধু সরকারী উদ্যোগে এবং নারীদের নিজেদের মধ্যে সচেতনতা বৃদ্ধিই নারী নির্যাতন রোধে যথেষ্ট নয়। এ জন্য মূলত এগিয়ে আসতে হবে পুরুষকে। নারী নির্যাতন প্রতিরোধের মিছিলে সবার অগ্রে থাকা চাই পুরুষের। নারী নির্যাতিত হচ্ছে পুরুষের মাধ্যমে আর তাই নারী নির্যাতন রোধে পুরুষই পারে সবচেয়ে বড় ভূমিকা রাখতে।

صرف حکومت اور ان کے تیار کردہ مہم کافی نہیں ہے۔ عورتوں کے خلاف ظلم روکنے کے لئے، اس جدوجہد میں مردوں کو سامنے آنا ہوگا. مردوں کواس لڑاِئی میں حصہ لینا ہوگا، کیونکہ سب سے زیادہ ظلم عورتوں کے خلاف مرد ہی کرتے ہیں. اس لئے ظلم روکنے کے لئے بھی مردوں کا کردار سب سے اہم ہے۔

ناظم فرحان چودھری ٹوئیٹ کرتے ہیں:

@nazimfarhan: میں اس لئے کھڑا ہو رہا ہوں کیونکہ ظلم صرف مزید ظلم کو جنم دیتا ہے#onebillionrisingbangladesh #Bangladesh

پروما کنیا ٹوئیٹ کرتی ہیں:

Launching of @OneBillionRisingبنگلہ دیش تم کیوں کھرے ہو رہے ہو  #Rising?

اس مہم میں حصہ لینے والے اداروں کے نام مندرجہ ذیل ہیں:

ایکشن ایڈ (Action Aid)، آین و سالش کندرا (Ain o Salish Kendra)، بلاسٹ (Blast)، بی-این-پی-ایس (BNPS)، براق (Brac)، منصور جونو فائنڈیشن (Manusher Jonno Foundation)، کیئر بنگلادیش (Care Bangladesh)، کرمو جی بی ناری (Kormojibi Nari)، نجرا کوری (Nijera Kori)، ٹیڈ اکس ڈھاکہ (TEDxDhaka)، اور آکسفام (Oxfam)۔

بات چیت شروع کریں

براہ مہربانی، مصنف لاگ ان »

ہدایات

  • تمام تبصرے منتظم کی طرف سے جائزہ لیا جاتا ہے. ایک سے زیادہ بار اپنا ترجمہ جمع مت کرائیں ورنہ اسے سپیم تصور کیا جائے گا.
  • دوسروں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں. نفرت انگیز تقریر، جنسی، اور ذاتی حملوں پر مشتمل تبصرے کو منظور نہیں کیا جائے.