وں پر سب کی رسائی ہو سکےتمام زبانوں کی فہرست دیکھیں جن میں گلوبل وائسز پر ترجمہ کیا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر کی کہانیا

پاکستان: اپنا کچرا ہم پرمت پھینکیں!

اس صفحہ پر تمام بیرونی لنکس انگریزی زبان میں ہیں۔

گلوبلائیزیشن کو دنیا کے تمام مسائل کا حل سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس کے چند انتہائی خطرناک اثرات بھی ہیں۔ مثلاً، آزاد سرحدوں کا مطلب یہ ہے کہ مغربی ممالک کو اجازت ہے کہ وہ اپنا کچرا  تیسری دینا کے ممالک میں پھینکیں۔ کیونکہ تیسری دنیا کے ممالک، جیسے پاکستان، میں اس فعل پر احتجاج کرنے والا کوئی نہیں اور حدود و قیود پر عمل بھی ممکن نہیں۔ اس لیے وہ پچھلے تیس سال سے پاکستان میں اپنا کچرا پھینک رہے ہیں۔

اسکپٹک لائف کہتا ہے:

پاکستان میں اہسپتالوں کے کوڑے سے نمٹنے کا کوئی نظام موجود نہیں۔ اکثر ادویات کے مراکز میں فضلہ سوز موجود نہیں اور کھلے  آسمان کے نیچے آلودہ کوڑے کے ڈھیر عام بات ہے۔ اب اس خرابی پر ضربیں لگانے کے لیے دوسرے  ممالک کا کچرا بھی آجاتا ہے، جن میں آیڈز اور ہپیٹائٹس جیسے موزی امراض بھی شامل ہوتے ہیں۔

ادویات کے کچرے کو بغیر پاک کیے سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے۔ تصویر از راجا اسلام۔ حق اشاعت: ڈیموٹکس(۱/۱۱/۲۰۱۰)۔

ادویات کے کچرے کو بغیر پاک کیے سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے۔ تصویر از راجا اسلام۔ حق اشاعت: ڈیموٹکس(۱/۱۱/۲۰۱۰)۔

عروس جنہوں نے لاہور میں ایک کچرا کنڈی کا دورہ کیا، لکھتی ہیں:

 دو دن پہلے، میں اور میرے دو صحافی دوستوں نے لاہور میں شادران کا دورہ کیا۔ شادران لاہور کی سب سے بڑی کباڑیا بازار ہے۔ میں نے زمین پر کچلا ہوا پلاسٹک، ادوایاتی کوڑے کا ڈھیر اور سرنج کی تھلیاں پڑی ہوئی دیکھیں۔ لوگ یہ سامان خریدنے یہاں آتے ہیں۔ میں نے وہاں کام کرنے والے دو بچوں سے بات کی اور ان کی یہ بات سن کر حیران رہ گئی کے ضنعتکار یہاں سے پلاسٹک خرید کر پلاسٹک کے بنے برتنوں میں بھی ملاتے ہیں!

پاکستان میں پلاسٹک کے کچرے کے بارے میں گرین آیکشن لکھتا ہے:

موجود حالات میں، درآمد کنندگان اور خریداروں کے لیے اس معیار کا پلاسٹک خریدنا معاشی طور پر سودمند بھی ہے اور  پاکستان کے درمیانی طبقے کا صارف کی قوت خرید کے اندر ہے۔ لیکن اس پلاسٹک کے بد اور خطرناک اثرات اتنے ہیں کے یہ اس کے نام نہاد فائدے کسی کام کے نہیں رہتے۔ کسی پالتو جانور کی بوتل سے پانی پینا دنیا کے کسی خطے میں صحت بخش نہیں سمجھا جاتا۔ مگر پاکستان کا تاجر طبقہ اس کچرے کے خزانے سے خوب معاشی فائدہ اٹھا رہا ہے۔ یہ کچرا ترقی یافتہ ممالک میں کسی استعمال میں نہیں آتا۔

پھر پاکستانی ادارے اس کچرے کو پاکستان میں جمع کرنے کی اجازت کیوں دیتے ہیں؟  یہ ایک ہمہ جہتی مسئلہ ہے۔ پلاسٹک کے اس کوڑے کو پاکستانی کسٹمز میں ‘پلاسٹک کی ردی’ کے زمرے میں لکھا جاتا ہے اور پھر درآمدکنندگان کو بیچ دیا جاتا ہے۔ جو سامان فروخت نہیں ہوپاتا وہ کچرے کا ڈھیر بن جاتا ہے۔ اس طرح یہ عمل باآسانی چلتا رہتا ہے۔ ہمارے کئی ہسپتال اپنا کوڑا ان ہی کچرا کنڈیوں میں ڈالتے ہیں، حتیٰ کہ کراچی میں جنین بھی اس ڈھیر میں ملنا عام بات ہے۔

ان واقعات کے بارے میں ڈے اینڈ نائٹ نیوز اپنے بلاگ پر لکھتے ہیں:

تقریباً ۹۰۰ کلو ادواتی فضلہ جس میں سرنج، خون لگا ہوا اون اور مرم پٹی شامل ہیں یو-ٹی اہسپتال (جی ام سی اچ- ۳۲) کے احاطہ میں پھینک دا گیا ہے۔ لوگوں کی صحت کو مکمل طور پر بالائے تاق رکھ دیا گیا ہے۔  کیونکہ اس اہسپتال کا شمار علاقے کے بہترین اہسپتالوں میں ہوتا ہے اس لیے اس جرم کے مرتقب لوگوں کو سخت سزا دینا چاہیے۔ فضلے کی وجہ سے ہزاروں ملازمین، مریضوں اور تیمارداروں کی صحت داو پر لگ گئی ہے۔

کراچی کی ایک کچرا کنڈی میں پلاستک فضلہ۔ تصویر از سید یاست کاظمی۔حق اشاعت: ڈیموٹکس(۱۵/۱۲/۲۰۰۹)۔

کراچی کی ایک کچرا کنڈی میں پلاستک فضلہ۔ تصویر از سید یاست کاظمی۔ حق اشاعت: ڈیموٹکس(۱۵/۱۲/۲۰۰۹)۔

پاکستان ٹوڈے بھی پلاسٹک مع آبی بیماریوں کے درآمد کرنے کے بارے میں لکھتا ہے:

پاکستان میں بیماری خریدنا بہت آسان ہے۔ اگر آپ کو جرمنی یا جاپان کے آپریشن اتاق سے کوئی بیماری خریدنی ہے، مثلاً ایڈز، ہپیٹائٹس اور ٹی-بی وغیرہ، تو آپ شادرا بازار سے باآسانی خرید سکتے ہیں۔ قیمتوں میں بیماریوں کے تناسب سے فرق پڑھتا ہے، اور قیمتیں ۱۰۰ روپے سے ۱۵۰ فی کلو تک جاسکتی ہیں۔ ہم دن رات پاکستان میں احتساب کی باتیں کرتے ہیں جن اداروں کا کام احتساب کرنا ہے، وہ ان پلاسٹک کے تاجروں کے ساتھ خفیہ معاہدے کر لیتے ہیں اور اس طرح یہ مال لاہور کی عام بازاروں تک آجاتا ہے۔

اگرجہ کسٹمز کے قوانین کو مضبوط کرنے سے فائدہ ہوگا لیکن اس معاملے ہر عوامی سرگرمی بہت ضروری ہے۔ اس لیے ان کچرا کنڈیوں کی نشاندہی بہت ضروری ہے۔  اس کے تدارک  کے لیے ہمیں چائیے کے ہم کچرا کنڈیوں کے پاس سے ناگزریں اور سوال کریں کے یہ زہریلا کوڑا یہاں کیوں پڑا ہے۔ اس کے وعلاوہ، کوڑا صفائی مہم بھی سود بخش ثابت ہوسکتی ہیں۔ ان کوڑا صفائی مہموں کو صرف ساحل تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔

اگر ہم خود موحول کی حفاظت کریں گے تو جب ہی ہم پاکستان کو محفوظ اور رہنے کے لائق بناسکتے ہیں۔

بات چیت شروع کریں

براہ مہربانی، مصنف لاگ ان »

ہدایات

  • تمام تبصرے منتظم کی طرف سے جائزہ لیا جاتا ہے. ایک سے زیادہ بار اپنا ترجمہ جمع مت کرائیں ورنہ اسے سپیم تصور کیا جائے گا.
  • دوسروں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں. نفرت انگیز تقریر، جنسی، اور ذاتی حملوں پر مشتمل تبصرے کو منظور نہیں کیا جائے.