وں پر سب کی رسائی ہو سکےتمام زبانوں کی فہرست دیکھیں جن میں گلوبل وائسز پر ترجمہ کیا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر کی کہانیا

پاکستانیوں کا #زینب کے لۓ انصاف کا مطالبہ، قصور میں 7سالہ بچی کا عصمت دری کے بعد قتل۔

انسٹاگرام سے #جسٹس فور زینب کے ساتھ پوسٹ کی گئی تصاویر کا سکرین شاٹ۔

سات سالہ بچی کے اغواہ، جنسی تشدد اور قتل کے بعد پاکستانیوں نے  تیز رو انصاف اور مجرم کو مثالی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

زینب انصاری  کی لاش صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں ایک کچرا کندی سے 9 جنوری کو ملی۔ زینب 4 دن سے لاپتا تھی۔ پوسٹ مارٹم کے مطابق  کمسن بچی کو جنسی تشدد کے بعد گلا گھونٹ کے مارا گیا۔

خبر کے پھیلتے ہی قصور شہر میں جھڑپیں شروع ہو گئیں؛ جس کے نتیجہ میں پولیس  کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے، جن کا مطالبہ تھا کہ ریپیسٹ اور قاتل کو فوری گرفتار کیا جائے جو ابھی تک پکڑا نہیں گیا۔

جلد ہی پورے ملک میں مضاہروں کا سلسہ شروع ہو گیا، اور 11جنوری کو طلبہ، وقلہ اور دیگر عوام نے حکام پر دباؤ برقرار رکھنے کے لئے سڑکوں کا رخ کیا۔

زینب کے کیس سے وسیح پیمانے پر غصے کی لہر کیوں دوڑی؟

قصور میں پرتشدد مضاہروں کی فوٹیج٬ مضاہرین پر پولیس کی فائرنگ، زینب کے والدین کے جذباتی انٹرویو، سی-سی-ٹی-وی فوٹیج جس میں  زینب ایک نامعلوم آدمی کا ہاتھ تھامے جا رہی ہے منظرعام پر آئیں تو ملک بھر میں لوگوں کے جزبات ابھرنے لگے۔

زینب پر جنسی تشدد کرکے قتل کرنے والے کی تصویر واضح طور پر کھینچی گئی ہے۔ وہ اب تک آزاد کیوں گھوم رہا ہے؟ کیا ہماری ایجنسیاں اسے قید کر سکتی ہیں؟ کیا ہم اس حیوان کو پکڑ کہ سر عام سزا دے سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کی حفاظت کے لئے کچھ کر سکتے ہیں؟

مگر کس بات نے لوگوں کو ابتدائی طور پر متحرک ہونے پر مجبور کیا؟ کالم نگار اور بلاگر موید پیرزادہ نے گلوبل ولیج سپیس؛ ایک خبروں کی ویب سائیٹ جو مکالمے اور تفہیم کو دیتی ہے کے لئے لکھتے ہوئے اس کی وجہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا:

پچھلے سال 12کمسن جنسی تشدد کا شکار ہوئیں اور قتل کی گئیں۔ ان میں سے بیشتر کیسز غیر حل شدہ رہے، اور عوام نشان دہی کر رہی ہے کہ حتی کہ مجرموں کو گرفتار کیا گیا مگر پولیس اور عدلیہ انھیں باہمی طور پر سزا نہیں دینے میں ناکام رہے ہیں۔ پاکستان کے ”مجرمانہ انصاف کے نظام” کی ناکامی عوام کے غصے کی بنیادی وجہ  ہے۔

قصور میں پچھلے ایک سال کے اندر اندر زینب کا کیس اس نوعیت کا بارواں کیس ہے۔ یہ وہی ضلع ہے جہاں 2015 میں بچوں کی فحش تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے گروہ پر روشنی ڈالی گئی تھی۔ زینب قتل کیس ان 300 بچوں پر گزری مصیبت کی نشان دہی ہے؛ جن کی عمریں 10 اور 15 کے درمیان تھیں اور وہ جنسی تشدد اور ویڈیوٹیپنگ کا شکار ریے۔

زینب کا آخری گھر کا کام

بچوں کی حفاظت کے صدیقاتی ادارے ساحل کی ریسرچ کے مطابق پورے پاکستان میں ہر روز بچوں کے ساتھ جنسی ذیادتی کے اوسطاً  11 کیسز رپورٹ کئے جاتے ہیں۔ 60 فیصد سے زائد کیسز پنجاب میں رپورٹ کئے گئے ہیں، ادارے نے کہا۔

2016 میں بچوں پر جنسی تشدد٬ بچوں کی فحش تصاویر اور  ویڈیوز اور بچوں کی اسمگلنگ کے خلاف پاکستانی  سینیٹ میں پہلی دفعہ قانون منظور کیا گیا۔ مگر اس قانون پر عمل درآمد اب تک  نہیں ہو سکا کیونکہ اس کے لئے وسائل مختص کرنے،قانون سازی کے ادروں کی ٹرینگ اور شعور کی مہم کی ضروت ہے۔

بچوں کی حفاظت کے لئے سیاسی خواہش کی کمی، معاشرے کی بچوں کو جنسیت اور زندگی بثر کرنے کے طریقوں کی تعلیم کی کمی اور عورتوں کے لئے معنوی حقارت کی وجہ سے پاکستان میں یہ صورتحال بڑھ گئی ہے۔ اس نوعیت کے کیسز پر توجہ دینا ضروری ہے٬ مگر اس توجہ کو برقرار رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے٬ جیسا کہ اداکار حمزہ علی عباسی نے فیسبک پر دلیل پیش کی:

پچھلے سال قصور میں 11 زینب گزریں، مگر ہم کچھ عرصہ احتجاج کرکے انھیں بھل گئے۔ اب ہم کچھ عرصہ پولیس٬ حکومت اور عدلیہ پر  بارہویں زینب کے قاتل کو ڈھونڈنے کا دباؤ ڈالیں گے اور پھر خاموشی سے تیرویں زینب کا انتظار کریں گے؟ 

سوشل میڈیا کا #زینب کے لئے انصاف کا مطالبہ

جہاں اس خبر سے ملک بھر میں مظاہرے ہوئے وہیں پر  5 لاکھ سے زائد لوگوں نے #جسٹس فار زینب کے ہیشٹیگ کو استعمال کیا۔

ابتدائی طور پر یہ ہیشٹیگ مخالف پارٹی پاکستانی عوامی تحریک کے کارکنان نے استعمال کرنا شروع کیا مگر پولیس کی جانب سے دو مضاہرین کو مارنے کے بعد عوام نے بھی اسے استعمال کرنا شروع کیا اور یہ ٹرینڈ کرنے لگا۔

سماجی کارکنوں اور وکیل، جبران ناصر نے معاشرے میں جنسی تشدد پر بات نہ کرنے کے رواج کو ختم کرنے کی بات کی:

“جنسی تشدد پر بات کرو-اس رواج کو ختم کرو!” کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج کرتے طلبہ٬ اساتذہ، میڈیا اور سماجی کارکنوں کا مطالبہ۔#زینب کے لئے انصاف #تمام بچوں کے لئے انصاف

کچھ لوگوں نے بچوں کو تعلیم دینے پر زور ڈالا  تاکہ وہ مجرموں کو رپورٹ کرنے میں مدد کر سکیں:

 #زینب کے لئے انصاف ملک بھر میں ان جنسی شکاریوں  کے خلاف کریکڑون ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنے تمام بچوں کو تشدد  سے محفوظ رکھنا ہوگا۔ ہمیں تعلیمی پروگراموں، شعوری مہم،  پولیس پروگراموں، زبردست سزاوں اور ہیلپ لائنز کی ضرورت ہے- جو کام کرے.

زینب  کے قاتلوں کو پکڑنا یا باقی بچوں کے قاتلوں کو پکڑنا کافی نہیں ہے٬ بلکہ اپنے بچوں کی حفاظت کرنا ہے۔ اور یہ پہلے والدین اور پھر حکومت کی ذمےداری ہوتی ہے۔ #زینب کے لئے انصاف۔

باقیوں نے زینب کے لئے انصاف کا مطالبہ کرتےہوئے اپنی تصاویر لگائیں:

نوبل پیس پرائز جیتنے والی اور بچیوں کی تعلیم  لئے سرگرم رہنے والی؛ ملالہ یوسفزئی نے بھی گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے حکومت سے سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا:

زینب کے بارے میں سن کر دل ٹوٹ گیا – 7 سالہ بچی قصور، پاکستان میں تشدد کے بعد قتل کر دیا۔ اسے ختم ہونا ہوگا۔ حکومت اور دیگر متعلقہ حکام کو کارروائی کرنی ہوگی۔ #زینب کے لئے انصاف۔

تمام بچوں کے لئے انصاف

جس دوران عوام کی پوری توجہ زینب کے کیس  تھی٬ پنجاب کے  شہر فیصل آباد کے  قصبے، دیجکوٹ میں کھیتوں سے 15 سالہ فیضان کی لاش برآمد ہوئی۔ اسے بھی جنسی جنسی تشدد کے بعد قتل کیا گیا تھا۔

اس واقعے  ایک بار پھر بچوں کی حفاظت کی ضرورت اور اہمیت کی نشان دہی کی۔

2012 دہلی گینگ-ریپ کیس کے بعد ہمسائے ملک بھارت میں جنسی زیادتی کے خاتمے کی مہم شروع ہوگئی تھی۔ کیا زینب کے کیس کے بعد پاکستان میں بچوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی؟ خیر ہمیں انتظار کرنا پڑے گا۔

بات چیت شروع کریں

براہ مہربانی، مصنف لاگ ان »

ہدایات

  • تمام تبصرے منتظم کی طرف سے جائزہ لیا جاتا ہے. ایک سے زیادہ بار اپنا ترجمہ جمع مت کرائیں ورنہ اسے سپیم تصور کیا جائے گا.
  • دوسروں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں. نفرت انگیز تقریر، جنسی، اور ذاتی حملوں پر مشتمل تبصرے کو منظور نہیں کیا جائے.