
سوشل میڈیا پر زیر گردش خاکہ
پاکستان کے دوسرے سب سے بڑے شہر، لاہور کے معروف علاقہ اقبال ٹاؤن میں واقع گلشنِ اقبال پارک میں ہونے والے بم دھماکہ کے نتیجہ میں کم و بیش 69 حلاکتیں واقع ہو چکی ہیں اور 250 سے زائد زخمیوں کو اسپتال لایا گیا۔
یہ ہولناک دھماکہ پارک میں بچوں کے لئے مختص مقام سے چند میٹر کے فاصلے پر اس وقت ہوا جب اتوار کی شام کو بہت بڑی تعداد میں لوگ ایسٹر منانے کے لئے پارک میں موجود تھے۔ دھماکہ سے متاثر ہونے والوں میں کثیر تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والی صحافی رابعہ، جو کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں ایک عدد مفصل رپورٹ تیار کرنے کی وجہ سے مقبول ہیں، نے ٹویٹ کیا:
#Christians were targeted in two #suicidebombings at #Youhanabad #churches in March 2015, & now on #Easter. #Lahore #Pakistan
— Rabia Mehmood (@Rabail26) March 27, 2016
مارچ 2015 میں یوحنا آباد کے گجا گھروں میں دو خود کش دھاکے کر کے عیسائیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اور اس بار پھر لاہور میں ایسٹر کے موقع پر مسیحی برادری ہی نشانہ بنے۔
حملہ کے فوراً بعد شہریوں نے بڑی تعداد میں اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاروایاں شروع کیں کہ جن میں سب سے بڑا کام زخمیوں کے لئے خون کے عطیات کا انتظام کرنا اور متاثرہ خاندانوں کی فوری امداد شامل تھا۔
I love you Lahore. pic.twitter.com/6j4AAyjgeM
— Nadia Jamil (@NJLahori) March 27, 2016
لاہور مجھے تم سے محبت ہے
دبئی میں مقیمڈیجیٹل کرائیسٹ کے نام سے بلاگ لکھنے والے پاکستانی بلاگر اینتھونی پرمل نے اپنے فیس بک پر خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا:
It is easy to hate. They want us to hate. But the terrorist have lost. You know how I know?
Because right now thousands of Lahori men and women are queueing up outside hospitals to donate blood. Tonight, Muslim blood will flow through Christian bodies. And vice versa. You see, in hurting us, you united us. Thank you. #LahoreStrong
نفرت کرنا آسان ہے۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ یم نفرت کریں لیکن دہشتگردوں نے شکست کھائی ہے۔ آپ کو پتہ ہے کہ مجھے یہ کیسے پتہ ہے۔ کیونکہ اس وقت ہزاروں کی تعداد میں لاہوری مرد اور خواتین اسپتالوں کے باہر خون کا عطیہ دینے کے لئے قطاروں میں کھڑے ہیں۔ آج رات، عیسائیوں کے جسم میں مسلمانوں کا خون دوڑے گا، اور مسلمانوں کے جسموں میں عیسائیوں کا۔ دہشتگردو دیکھو ہمیں نقصان پہنچانے کی تمہاری اس کوشش نے ہمیں متحد کر دیا ہے۔ شکریہ۔
مقامی ٹیکسی سروس کاریم خون کا عطیہ دینے جانے والوں کے لئے مفت سواری فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ .
Free Transport to Donors #Lahore. Careem offering free car rides to all those going to donate blood. 042-35909393 pic.twitter.com/gI8dmS1vfQ
— Jibran Nasir (@MJibranNasir) March 27, 2016
خون کا عطیہ دینے کے خواہشمند خواتین و حضرات کے لئے کاریم مفت سواری فراہم کر رہی ہے
پاکستان کے مقبول اخبار ڈان کی جانب سے لاہور میں خون کے عطیہ کی اپیل کے لئے ٹویٹ سامنے آیا۔
#LAHORE REQUEST FOR BLOOD DONATION
Jinnah Hospital is running short of blood. Blood donations are required urgently.
— Dawn.com (@dawn_com) March 27, 2016
جناح اسپتال میں خون کی کمی ہے، خون کے عطیات کی اشد ضرور ہے۔ لاہریوں سے خون کے عطیہ کی اپیل کی جارہی ہے
لاہور سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن نے امدادی سرگرمیوں کو فعال بنانے کے لئے انٹرنیٹ پر ایک فارم شیئر کیا:
If you want to coordinate efforts to help the victims of #LahoreBlast, plz fill out this Google form & share widely https://t.co/1cwHODyer2
— Nuzhat S. Siddiqi (@guldaar) March 27, 2016
آگر آپ متاثرین کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو درج زیل فارم کر پر کریں اوراس فارم کو دوسروں تک پہنچائیں۔
اس فارم کا مقصد رضاکاروں کی ٹیم مرتب کر کے متاثرین کے لئے پانی، کھانا، ادویات، ویل چیئر، بیساکھیاں، اور کفن دفن کا انتظام کرنا ہے خاص کر ان کے لئے جو ان سب کے لئے مالی قوت نہیں رکھتے۔
دھماکہ کے سات گھنٹوں بعد سماجی کارکن جبران ناصر نے ٹویٹ کیا:
3:00am Lahore Hospitals still crowded with blood donors. This is what makes us Pakistan. This is what gives us hope, keeps us going #YouLost
— Jibran Nasir (@MJibranNasir) March 27, 2016
صبح کے تین بج رہے ہیں اور ابھی بھی لاہور کے اسپتالوں میں خون کا عطیہ دینے والوں کا رش موجود ہے۔ یہی جزبہ پاکستان کی علامت ہے۔ یہی ہمیں امید دیتا ہے اور آگے بڑھنے کی ہمت دیتا ہے۔
اپنے فیس بک صفحہ پر جبران نے تفصیلاً کچھ یوں لکھا:
Note: This status in no way intends to belittle the loss of precious lives today. I am also not implying that the sudden and tragic loss of lives today was meant to be a sacrifice in the War against terror. Those people didn't want to die and they deserved a peaceful and secure life. I am only acknowledging the response and unity shown today by the people of Lahore who are helping out regardless of religion/sects beings humans first.
نوٹ: اس تحریر کا مقصد کسی صورت بھی آج ہونے والے قیمتی جانی نقصان کو کم کر کے پیش کرنا نہیں ہے۔ اور میں یہ بھی قطعاً نہیں کہنا چاہ رہا کہ آج ہونے والا جانی نقصان دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں دی جانے والی قربانی تھی۔ وہ لوگ مرنا نہیں چاہتے تھے ایک پر امن اور پر سکون زندگی ان کا حق تھی۔ میں صرف اس حملہ کے رد عمل میں لاہوریوں کی جانب سے دکھائے گئے اتحاد پر ان کو داد دینا چاہتا ہوں کیونکہ وہ نسل و مذہب کی تقسیم کے بغیر انسانوں کی مدد کرنے کے لئے سامنے آئے۔
تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروہ جماعت الاحرار نے حملہ کی زمہ داری قبول کی۔ پاکستان کے انگریزی زبان کے اخبار ایکسپریس ٹریبیون سے بات کرتے ہوئے گروہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ “ہم ان عسائیوں پر ہونے والے حملہ کی زمہ داری قبول کرتے ہیں کہ جو ایسٹر کا تہوار منانے کے لئے جمع ہوئے تھے۔”
پاکستان گزشتہ نو سالوں سے طالبان کی جانب سے متعلقہ تشدد اور جرائم پیشہ سرگرمیوں سے لڑ رہا ہے.
جب لاہور حملے کے بعد کی صورت حال سے گزر رہا تھا اس وقت وفاقی دارالحکومت میں ممتاز قادری کی حمائت میں احتجاج کرنے کے لئےجمع ہوئے ہزاروں افراد کے مارچ پر پولیس کی جانب سے آنسو گیس فائر کی گئی۔ ممتاز قادری کو گزشتہ ماہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے جرم میں پھانسی دی گئی تھی۔ سلمان تاثیر جوکہ توہینِ رسالت کی ایک ملزمہ کا دفاع کر رہے تھے۔ پاکستان میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بلاسفیمی قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے اور اس میں بیشتر اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
Fanatics marauding #Islamabad, jihadists raining death on #Lahore; #Pakistan remains under siege from within pic.twitter.com/ucPAbmhZkY
— Mohammad Taqi (@mazdaki) March 27, 2016
جنونی اسلام آباد کا قتل کر رہے ہیں۔ لاہور میں جہادی موت کی بارش کر رہے ہیں۔ پاکستان اپنے اندر ہی محصور ہو کر رہ گیا ہے۔
وکیل اور ڈیجیٹل حقوق کی کارکن، نگہت داد جو کہ زیرِ حملہ پارک کے قریب ہی رہائز پزیر ہیں نے باغوں کے شہر لاہور میں ہونے والے اس ہولناک واقعہ کا تزکرہ کچھ یوں کیا:
“Stay strong” “We are resilient” “We will go through this” All sound shallow..seems there is no end to madness #lahoreblast
— Nighat Dad (@nighatdad) March 27, 2016
‘ڈٹے رہو” “ہم باہمت ہیں” “ہم اس کا مقابلہ کریں گے” یہ سب کھوکھلا لگنے لگا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ پاقل پن کبھی ختم نہیں ہوگا۔
امریکہ میں مقیم پاکستانی کالم نگار رافعہ زکریا نے ٹویٹ کیا:
In Lahore children playing in a park targeted, they have run out of ambulances, over 50 are dead, many dying at the scene #jesuislahore
— Rafia Zakaria (@rafiazakaria) March 27, 2016
لاہور میں پارک میں کھیلتے بچوں کو نشانہ بنایا گیا، امداد کے لئے ایمبولنس گاڑیاں کم پڑ گئیں، 50 سے زائد حلاک، اور ابھی حلاکتوں کا سلسلہ جائے وقوع پر جاری ہے۔
معروف اداکارہ اور ٹالک شو کی میزبان نادیہ جمیل نے حملہ کا نشانہ بننے والے ایک بچے کی تصویر شیئر کی:
I keep remembering his smile.
It keeps coming back to me.
Oh My wonderful loving gallant friend.
RIP Nomi❤️#Lahore💔 pic.twitter.com/zr6cTZBPbo— Nadia Jamil (@NJLahori) March 27, 2016
مجھے اس کی مسکراہٹ یاد آ رہی ہے۔ میں نہیں بھول پا رہی۔ اے میرے پیارے بہادر دوست۔ نومی، اللہ تمہیں غریق رحمت کرے
انسانی حقوق کی وقکیل ماہ نور راٹھور لکھتی ہیں:
I hear the death toll rise and the number of injured increase on the television and as I type this post, I am not sure of what to do, where to start, where to head out? Is there even a place where I can start? There are going to be talk shows on this for the next ten days, media will exploit the loss and pain of the shattered families, the government will give out blood money- compensating the loss and saving its face.
میں نےٹیلیوژن پر سنا ہے کہ حلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور جب میں یہ تحریر کر رہیں ہوں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کروں، کیسے شروع کروں اور کیسے ختم کروں؟ کیا کوئی ایسا مقام ہے کہ جہاں سے آغاز ہو سکے؟ آج کے واقعہ پر اگلے دس روز تک ٹالک شوز ہوں گے، ذرائع ابلاغ میں بکھرے خاندانوں کے نقصان اور درد کا استحصالہوگا۔ حکومت خانہ پری اور نقصان کی تلافی کے لئے متاثرین میں پیسے تقسیم کرے گی۔