وں پر سب کی رسائی ہو سکےتمام زبانوں کی فہرست دیکھیں جن میں گلوبل وائسز پر ترجمہ کیا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر کی کہانیا

بحرین: فارمولا ون گاڑیوں کی ریس آنسو گیس اور تشدد کے گرداب میں

اس صفحہ پر تمام بیرونی لنکس انگریزی زبان میں ہیں۔

بحرین ۲۲ اپریل کو فارمولا ون گاڑیوں کی ریس کا انعقاد کررہا ہے جو بعد از اں ایک بہت بڑے مظاہرے میں تبدیل ہوگیا۔ مظاہرین بحرین میں انسانی حقوق کی صورت حال (پی ڈی اف)   اور قفس زندان میں موجود کارکن عبدﷲ الخواجہ کی طرف بین الاقوامی توجہ  مبذول کروانا چاہتے ہیں۔ عبدﷲ الخواجہ ۸ فروری ۲۰۱۲ سے بھوک ہرتال پر ہیں اور ان کی صحت روز بروز بگڑتی جارہی ہے۔

سیاسی ہلچل کی بنا پر یہ ریس ۲۰۱۱ء میں منسوخ کردی گئی تھی۔ اس بار فیصلہ کیا گیا کہ سیاسی ہلچل کے باوجود اس سال ریس کو منسوخ نہیں کیا جائے گا۔ حالیہ دنوں میں حکومت نے  مظاہروں کی شدت میں کمی کے لیے ہر ممکن اقدام کیا، اور بیرونی دنیا سے صحافیوں کا بحرین آنا بھی ممنوع قرار دے دیا۔ تصادم کی صورت میں پولیس مظاہرین پر آنسوں گیس اور حواس باختہ کرنے والے دستی بم سے حملہ کرتی ہے۔ اس تصادم میں ایک احتجاجی، سالحہ عباس حبیب، جاں بحق ہوا۔

الوفاق کی طرف سے جاری کردہ مندرجہ ذیل ویڈیو ۲۰ اپریل کو ہونے والے ایک بڑے احتجاجی مارچ کو سامنے لاتی ہے:

تناو اپنے عروج پر ہے، اور شہر میں پولیس کہ بھاری نفری تعینات ہے۔  فارمولا ون کے صحافی، آئین پارکس، ۲۲ اپریل کی صبح لکھتے ہیں

@آئین پارکس: ‘پولیس کی گاڑیاں گننے کا کھیل'۔  آخری دن پر ان گاڑیوں کی کل تعداد ہے ۸۶ ہے!

سرگرم کارکن نبیل رجاب نے ۲۱ اپریل کو بحرین کے مختلف علاقوں میں صورت حال کی اس طرح تشریح کی ہے:

@نبیل رجاب: میں اپنے گھر سے ایمبولنسوں، ہیلی کاپٹروں، پولیس گاڑیوں اور گولیوں کی آوازیں سن رہا ہوں۔  مگر #اف-۱ انتظامیہ کے مطابق سب صحیح ہے۔ #بحرین #جی پی لندن

ڈاکٹر فاطمہ حاجی (ایک ڈاکٹر جن پر پچھلے سال مظاہرین کا علاج کرنے کا مقدمہ بنا تھا) نے ۲۲ اپریل کو ٹیوئیٹر پر لکھا:

@ڈاکٹر فاطمہ حاجی: میرا ۳ سال کا بیٹا، میرے شوہر اور میں، بنی جمرا میں اپنے فلیٹ میں بند ہیں اور ہمارا دم گھونٹ رہا ہے۔ سکیورٹی کے رضاکار دروز میں آنسو گیس سے حملہ کررہے ہیں۔ #بحرین #اف ون

قمر۷۰ کی طرف سے مندرجہ ذیل ویڈیو ۱۹ اپریل کو پولیس کی جانب سے سآر کی گلیوں میں آنسو گیس کی شیلنگ دیکھاتی ہے:

اپنے بلاگ ‘بحرین میں مذھب اور  سیاست’ میں جسٹن گینگلر قیاس کرتے ہیں کے کہیں (ریس کے) فیصلے کا الٹا اثر تو نہیں ہورہا:

اگر آپ گوگل نیوز پر ‘بحرین فارمولا ون’ کو تلاش کریں گے، تو آپ کو منفی (سیاسی) اور مثبت (کھیل) خبریں اس حساب مس ملیں گی: ۴،۰۸۲ از ۲۳۲، یعنی ہر ۵۔۱۷ منفی خبروں پر ۱ مثبت خبر  ۔ یہ صورت حال بحرین کے لیڈروں  کوایک بار پھر نقصان و مفاد کا تجزیہ کرنے پر مجبور کرے گی۔

ایک اور مضمون میں جسٹن گینگلر فرمولا ون ریس سے تعلق رکھنے والی تصاویر کو اکھٹا کرتا ہے، بشمول کارلوس لاتوف کی مندرجہ ذیل تصویر کے:

فرملولا ون کا بحرین میں مائیکاٹ. تصویر از کارلوس لاتوف

بلاگر امیلی ائل حاوزر سوال کرتی ہیں کہ آیا ریس کا انعقاد ایک مثبت اقدام تھا کہ نہیں:

ایک سال سے جاری مظاہروں، جس میں احتجاجیوں کو قتل کیا گیا، آنسو گیس کے حملے ہوئے، قفس زندان میں رکھا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا؛ ایسی صورت حال میں اتوار کو ہونے والی ریس پر بادشاہ سلمان بن حماد الخلیفہ کا بی بی سی کو بیان کہ “ریس کی منسوخی صرف انتہاہ پسندوں کو فائدہ پہنچائے گی”، جب کہ ریس کے انعقاد “خیر کی طاقت” کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔

خیر کی طاقت

خیر کی طاقت؟

آپ جانتے ہیں خیر کی طاقت کیا ہوتی ہے؟ جمہوریت۔ انسانی حقوق۔ آزادی اور انصاف۔ اس طرح کی چیزیں۔

فارمولا ون ریس سے پہلے قدم نامی گاؤ کے گرد خار دار تاریں۔ تصویر از ٹیوئیٹر @Sajjad_Alalwi.

محمد عاشور قیاس کرتے ہیں کہ ریس کے دن کیا کیا ہوسکتا ہے:

@محمد عاشور: #بحرین کی اونچی عمارتیں #اف ون گاڑیوں کے جلتے ہوئے ٹائروں کےدھوئے سے بر گئی ہیں، بہت دلچسپ دن ہوگا۔

صحافی جوائر اسپنوزہ لکھتے ہیں:

@جوائر اسپنوزہ: #بحرین میں #اف ون ریس سے پہلے ملکیہ، کرزکان، سداد اور دامستان کے گاؤں میں تصادم

دی ٹائمز کے موٹر ریس کے نامہ نگار، کئون ایسن، لکھتے ہیں:

@کئون ایسن: صبح بخیر بحرین، انگلستان اور ساری دنیا۔ میں اف ون تاریخ کی سب سے متنازع ریس دیکھنے #بحرین جارہا ہوں

رپوٹرز بدون مرز (RSF) نے ریس کے بارے میں مندرجہ ذیل ویڈیو بنائی ہے:

بات چیت شروع کریں

براہ مہربانی، مصنف لاگ ان »

ہدایات

  • تمام تبصرے منتظم کی طرف سے جائزہ لیا جاتا ہے. ایک سے زیادہ بار اپنا ترجمہ جمع مت کرائیں ورنہ اسے سپیم تصور کیا جائے گا.
  • دوسروں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں. نفرت انگیز تقریر، جنسی، اور ذاتی حملوں پر مشتمل تبصرے کو منظور نہیں کیا جائے.