وں پر سب کی رسائی ہو سکےتمام زبانوں کی فہرست دیکھیں جن میں گلوبل وائسز پر ترجمہ کیا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر کی کہانیا

سرد جنگ کے دور کے ہنگیرین کارٹون کی دلچسپ دنیا

A screen shot from the cartoon "Gustav Wants to Marry."

“گسٹاو شادی کرنا چاہتا ہے” کارٹون قسط کا ایک منظر

گو کہ ہنگری زمانہ سرد جنگ (1947-1991) میں آہنی پردہ کے پیچھے رہا لیکن اس کے باوجود اس ملک نے چند باکمال کارٹون فلمیں تیار کیں۔

آہنی پردہ کی اصطلاح ایک تصوری سرحد کے لئے استعمال ہوتی ہے جس نے یورپ کو دو مخالف دھڑوں میں تقسیم کر رکھا تھا، جیسا کے وارسا معاہدہ کے اشتراکی ممالک یعنی سوویت یونین، مشرقی جرمنی، پولینڈ، چیکوسلوواکیا، بلغاریہ، رومانیا، اور ہنگری۔ اور اس آہنی پردہ کے دوسری جانب غیر وابستہ اشتراکی یوگوسلاویہ سمیت باقی تمام دنیا تھی۔

آہنی پردہ کے پیچھے رہنے والے ممالک میں خیالات و افکار کے تبادلے، نقل وحرکت کی آزادی، اور ذاتی زندگی کے حوالے سے بہت سے پابندیاں عائد تھیں اور اس پر مرکزی منصوبہ شدہ منڈی کی وجہ سے معیار زندگی بہت برا تھا۔ 1956 کی بغاوت کے خونی دمن کے بعد ہنگری کی قیادت نے رفتہ رفتہ معاشی و سماجی پابندیاں نرم کرنا شروع کر دیں۔ جس کے نتیجہ میں ملک میں حکومت اور عوام کے تعلقات میں سوویت یونین جیسا تناؤ قدرے کم رہا، اس طرز حکمرانی کو گولاش کیمونزم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اس نرمی کا فنکاروں نے کافی فائدہ اٹھایا اور لاتعداد مقبول متحرک کارٹون بنا ڈالے۔ ذیل میں اس دور کے تین کارٹونز کا ذکر ہے۔

گسٹاو

مزاحیہ کارٹون “گسٹاو” (1961-1977) یا “گسٹاووس” ہنگری کی معروف ثقافتی مرآمدات میں سے ایک تھی۔ یہ کارٹون روزمرہ کے معاملات کی عکاسی کرتا تھا اس کے ساتھ ساتھ ملک حد سے تجاوز کرتی بیوروکریسی اور اپنی زندگی سے خوش نہ ہونے جیسے موضوعات پر طنزیہ تبصرہ کرتا تھا۔

ہنگری زبان چونکہ دیگر ممالک کی زبان سے مختلف ہے لہذا اس کارٹون میں سیاست ہی ایک قدر مشترک تھی جو دیگر ممالک میں بھی موجود تھی۔ گسٹاو نے خاموش فلم والی تکنیک کا سہارا لیا جس سے اس میں ایک عالمگیری اپیل پیدا ہو گئی۔

گسٹاو جہاں بھی دیکھا گیا اس نے اس ملک میں گہرے نشانات چھوڑے چاہے پھر وہ بلاٹک کی کہانی ہو یا ادریتک کی۔ کہا جا سکتا ہے کہ اس کے اناڑی مرکزی کردار کو کلٹ یعنی فرقہ کا سا مقام حاصل ہوا جو آج بھی قائم ہے۔ اس کی چند اقساط آج بھی یو ٹیوب پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

ہنگیرین لوک کہانیاں

بیسویں صدی کے اواخر تک مرکزی و مشرقی یورپ میں یہی مانا جاتا تھا کہ کارٹون بچوں کی تفریح کے لئے ہوتے ہیں، اور در حقیقت اس دور میں زیادہ تر کارٹون بنتے بھی بچوں کے لئے تھے۔ (اسی تصور نے کچھ لکھاریوں کے لیے اپنی تخلیقات کو سمگل کرنا آسان بنا دیا)۔ سرکاری ٹی وی پر بچوں کے لئے مختص وقت میں کارٹون دکھائے جاتے تھے۔ جیسا کہ یوگوسلاویہ میں شام کو 7:15 پر رات کی خبروں سے پہلے کارٹون نشر کئے جاتے۔

کمیونزم کا چونکہ رجھان مستقبل کی جانب تھا اسی لئے اشتراکی ممالک میں بچوں کے لئے تفریحی مواد تیار کرنا ایک ضروری بات سمجھی جاتی تھی۔ ریاست عام تعلیم اور نوجوانوں کی تفریح کے لئے وسائل جیسا کہ لٹریچر اور فلم مہیا کرتی تھی۔

ہنگرین لوک کہانیاں اسی روش کی ایک مثال ہے۔ اس سلسلہ کا اصل نام ماگیر نیپمیسیک تھا اور اس میں اعلی قسم کی لوک کہانیاں نشر کی جاتی تھیں۔ اس سلسلہ میں بیشتر اقساط 2 ڈی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے تیار کی گئیں۔

لوک کہانیوں میں روایات شامل ہوتی تھیں اور ان کا دیگر ممالک، جیسا کہ امریکہ (اوپر دی گئی مثال امریکہ میں نشر کئے گئے کارٹون کی ہے) میں برآمد کرنے کے لئے مقامی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ یہ کارٹون سیریز 1978 میں شروع ہوا اور یہ آج بھی بیشتر ممالک میں نشر کیا جاتا ہے۔ اسی لئے انٹرنیٹ صارفین نے اپنے اپنے ملک میں نشر ہونے والی اقساط کی رکارڈنگ انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کر رکھی ہیں۔

مِکروبی

1971 میں نشر ہونے والی تیرہ اقساط پر مبنی یہ کارٹون سیریز مکروبی ایک ایسے انسانی خاندان کی کہانی ہے جو ایک روبوٹ کی مدد سے خلائی سفر پر ہوتا ہے۔

A Mikrobi scene.

مکروبی کا ایک مخصوص منظر

خصوصاً بچوں کے لئے تیار کئے گئے اس کارٹون نے بھی ان ممالک کے  پاپولر کلچر میں اہم نقوش چھوڑے کہ جہاں جہاں یہ نشر ہوا۔ اس کو گسٹاو جیسی مقبولیت تو نہ ملی لیکن جو لوگ اس دور میں بچے تھے اور یہ کارٹون دیکھا کرتے تھے وہ آج بھی اسے اور اس کے مکالمے یاد کرتے ہیں۔

“لوک کہانیوں” کے برعکس مکروبی کی اقساط آن لائن اتنی آسانی سے میسر نہیں، ان تک رسائی کے لئے ہنگرین زبان اور ہنگرین ویپسائیٹ کی سمجھ کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کی ایڈوانس سرچ کی سوجھ بوجھ ضروری ہے۔ مثال کے طور پر پرانی ٹیلیوژن پوگراموں پر مشتمل میسیڈونیا کے ایک  بلاگ پر اس کی مقدونیائی زبان میں ترجمہ شدہ ایک قسط موجود ہے۔

یہ تحریر ہنگرین انیمیشن کے تابناک ماضی کا ایک چھوٹا سا نمونہ پیش کرنے کے لئے لکھی گئی۔ اس بارے میں اور بھی بہت کچھ دیکھا اور پڑھا جا سکتا ہے لہذا اس کو دریافت کرنے کے لئے ہچکچانے کی ضرورت نہیں۔

بات چیت شروع کریں

براہ مہربانی، مصنف لاگ ان »

ہدایات

  • تمام تبصرے منتظم کی طرف سے جائزہ لیا جاتا ہے. ایک سے زیادہ بار اپنا ترجمہ جمع مت کرائیں ورنہ اسے سپیم تصور کیا جائے گا.
  • دوسروں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں. نفرت انگیز تقریر، جنسی، اور ذاتی حملوں پر مشتمل تبصرے کو منظور نہیں کیا جائے.