وں پر سب کی رسائی ہو سکےتمام زبانوں کی فہرست دیکھیں جن میں گلوبل وائسز پر ترجمہ کیا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر کی کہانیا

گوئٹے مالا: مقامی گاؤں کا یہ اعلان کے انٹرنیٹ تک رسائی ایک انسانی حقوق ہے

گوئٹے مالا کے ایک  قصبے ، سن تیاگو اتیتلان میں انٹرنیٹ کی رسائی کو وہاں کے مقامی لوگوں اور حکام نے  بنیادی انسانی حقوق کا درجہ دے دیا ہے. وہاں کے حکام اب اس کوشش میں ہیں کہ اس قصبے کے مکینوں کے لئے وائے فائے (wi-fi) کا انتظام کیا جاۓ تاکہ اس حق تک سب کی رسائی ہو سکے.
یہاں کے معاشرے میں مل جُل کر رہنا، اور مل بانٹ کر چیزیں استمعال کرنا ایک عام روش ہے. اس قصبے کے لوگوں کے مل بیٹھنے کی جگہ بھی سانجھی  ہے اور دیگر لسانی اقوام کی طرح ما ین تزو تھل میں بھی ایک دوسرے کی مدد کرنا کا جذبہ بھرپور ہے. گوئٹے مالا کے بالائی علاقوں میں رہنے والے قبائل کے تمدن میں کھلے دروازے اور مددگار ہاتھ دونوں شامل ہیں. جیسے جیسے تمدن ترقی کر رہا ہے اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی نت نئی ایجادات سے وہ واقف ہو رہے ہیں اور انھیں اپنا کر اپنے روایتی طریقوں سے ملا کر کام میں لا رہے ہیں. یہی بات انٹرنیٹ کے لیے بھی درست ہے.

تصویر یو ریسپونڈو (Yo respondo) کی اجازت سے استعمال کی گئی ہے

سان تیاگو اتیتلان کے نوجوان بہت  مہارت کے ساتھ ڈیجیٹل طریقے اپنا رہے ہیں.  ان کا پروگرام ‘میں نے جواب دیا! اور آپ نے؟   انٹرنیٹ اور مقامی کیبل  ٹی وی  کے ذریعے لوگوں تک پھنچتا جاتا ہے .
 ان میں وہ مقامی، ماحولیا تی اور دیگر مسائل پر بات چیت کرتے ہیں.  ان لوگوں نے اپنے پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کی تکمیل پر ایک شو کو وائے فائے سے منسوب کیا اور اسکا عنوان ‘انٹرنیٹ:  میرا انسانی حق’ رکھا . اس تقریب میں انہوں نے اقوام  متحدہ کے خصوصی نمایندے برائے آزادی رائے و اظہار کو دعوت دی تھی. نمایندہ خصوصی نے وہاں ان سب کو مبارکباد دی اور کہا کہ ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ انٹرنیٹ حقوق کے حصول کا ایک اھم ذریعہ ہے.
وہاں کے ریڈیو اتی نے وائے فائے کے پروجیکٹ کو مقامی لوگوں اور حکّام کے باہمی اشتراک کا نتیجہ قرار دیا ہے:
 ان کے علاقے کے میئر توماس شیوئ لئو نے اس بات کی طرف توجہ  دلوائی کہ اس کا ایک مقصد مقامی آبادی کے لئے معلومات میں شفافیت  لانا تھا۔ اسی لئے انہوں نے ایک ایسا مربوط نظام بنایا ہے جس کے ذریعے مقامی حکومت اپنے مختلف دفاتر  کے درمیان معلومات کی آزادانہ ترسیل کو ممکن بنا سکے.  اس وجہ سے انہوں نے انٹرنیٹ کے لئے ضروری آلات نصب کروائے اور  سارے اطراف میں اس سہولت کو فراہم کروایا. ان کے مطابق یہ اس لیے بھی ضروری تھا کیونکہ اس سے وہاں کے نوجوانوں، مقامی اداروں اور سیاحت کو فایدہ  پہنچے گا۔

 

تصویر Juan Damian کی اجازت سے استعمال کی گئی ہے

گو کہ سان تیاگو اتیتلان کا شمار  وسط امریکا کے غریب ترین دیہاتوں میں ہوتا ہے تاہم  وہ مقامی آبادی کو انٹرنیٹ تک رسائی دینے میں پیش پیش ہے

انٹرنیٹ کا باقاعدہ ایک پاس ورڈ ہے، جو کہ “آئی ایم اتیتلان’ یا میں اتیتلان ہوں رکھا گیا ہے۔ یہ مقامی شناخت کو اجاگر کرتا ہے اور یہ بھی یاد دلواتا ہے کہ اس نام سے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے والے لوگ دنیا کی خوبصورت جھیلوں میں سے ایک، اتیتلان جھیل کے کنارے آباد ہیں. سان تیاگو اتیتلان کی مقامی حکومت فیس بک اور ٹو یٹر پر بھی سر گرم ہے.    @atitlanmuni[es].

Juan Damian کی لی گی تصویر ان کی اجازت سے استعمال  میں

سان تیاگو اتیتلان اور اسکے باشندوں نے ہم سب کو تین اہم سبق دیے ہیں: انٹرنیٹ حقوق کے حصّول کو ممکن بناتا ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے دیگر حقوق، جیسے معلومات تک  رسائی کا حق؛ اس بستی میں وائے فائے کے بہت سے فوائد ہیں، جنکا ذکر میئر نے بھی کیا،  مثلاً، وہاں کے نوجوانوں کو موقع ملا کہ وہ اپنا مخصوص تمدن دنیا کو دیکھا سکیں، اپنے خیالات کا پرچار کر سکیں اور ایک ایسے مستقبل کو ممکن بنا سکیں جو سرحدوں میں مقید نہ ہو. مستقبل تو اب آ چکا، اور آپ اس میں اہل سان تیاگو اتیتلان کے ساتھ جی سکتے ہیں۔

بات چیت شروع کریں

براہ مہربانی، مصنف لاگ ان »

ہدایات

  • تمام تبصرے منتظم کی طرف سے جائزہ لیا جاتا ہے. ایک سے زیادہ بار اپنا ترجمہ جمع مت کرائیں ورنہ اسے سپیم تصور کیا جائے گا.
  • دوسروں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں. نفرت انگیز تقریر، جنسی، اور ذاتی حملوں پر مشتمل تبصرے کو منظور نہیں کیا جائے.