وں پر سب کی رسائی ہو سکےتمام زبانوں کی فہرست دیکھیں جن میں گلوبل وائسز پر ترجمہ کیا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر کی کہانیا

· جون, 2014

مضامین سے رائنڈ اپ سے جون, 2014

چھا جاؤ ارجنٹینا – ارجنٹینا کی قومی فٹ بال ٹیم کے نام خط

vamos argentina

تصویر بشکریہ فکونڈوپرمپرو بذریہ فلکر CC BY-NC-ND 2.0.

فٹ بال ورلڈ کپ کی مہم پر جا رہی اپنی ٹیم کی لئے ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے مینوئل ڈی لیون نے اپنی قومی فٹ بال ٹیم کے نام ایک خط لکھا کہ جس میں ٹیم کی حوصلہ افزائی کی لئے پیغامات موجود تھے:

Me tomo hoy, a través de esta carta, el atrevimiento de pedirles que dejen la vida dentro y fuera de la cancha por estos colores; que cuando vayan a correr una pelota, lo hagan como la sangre celeste y blanca que les corre por dentro; que cuando traben una pelota no lo hagan con toda sus fuerzas, sino con la de 40 millones de argentinos, porque vamos a estar con ustedes. Estaremos en oficinas, bares, restaurantes, casas, colectivos, el tren, el subte, las fábricas, en la calle. A lo largo y a lo ancho de un país entero.

اس خط کی مدد سے میں یہ کہنے کی جرات کر رہا ہوں کہ میری آپ سب سی گزارش ہے ملک کی لیے اپنے بہترین کھل سے بھی بہتر کھل پیش کرنا جب گیندکے پیچھے بھاگنا تو ایسے بھاگنا کو جسے ملک کے جھنڈے کا نیلا اور سفید رنگ لہو بن کر آپ لوگوں کی رگوں میں دوڑ رہا ہو. ار جب گیند آپ کو مل جاۓ تو اسی کی ساتھ ایسے کھیلنا کہ جیسے آپ کے سننے میں آپ کے دل کے ساتھ ساتھ چار کروڑ ارجنٹینا کی عوام کا دل بھی دھڑکرہا ہو ایسا اس لئے کہ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں. ہم کہے دفتر میں وں، بار میں ہوں، کسی ریستوران میں ہوں، گھر پر ہوں، عوامی ٹرانسپورٹ جسے ٹرین و سب وے وغیرہ میں ہوں، کسی کارخانے میں ہوں، یہ پھر کسی گلی میں. ملک کی ور کونے میں ہم آپ کے ساتھ ہیں.

ڈی لیون کا ٹویٹر آئ ڈی

یہ پوسٹ چھٹے #LunesDeBlogsGV  کا حصّہ ہے جو ٩ جون ٢٠١٤ کو شائع ہوا 

الوداع ہندوستان ایمبیسیڈر

A yellow Hindustan  ambassador taxi at Kolkata Road. Image by D Chakraborty. Copyright Demotix (27/5/2014)

کلکتہ روڈ پر رواں ایک پیلی ہندوستان ایمبیسیڈر ٹیکسی۔ (تصویر بشکریہ ڈی چکربورتی۔ کاپی رائیٹس ڈیموٹیکس 27/05/2014)

ہندوستان موٹرز نے حال ہی میں بھارت کی سب سے مشہور موٹر گاڑی ہندوستان ایمبیسیڈر کی پیداوار کو  معطل کرنے کا اعلان کیا۔ یہ گاڑی سب سے پہلے 1958 میں سڑکوں پر آئی۔ کٹنگ دی چائےپر سومیادیپ چوہدری نے ایک ان آفیشل  اینیمیٹڈ گوگل  ڈوڈل   بنا کر اس کلاسیکی کار کو خراج تحسین پیش کیا۔   یہ گاڑی  اب بھی ٹیکسی ڈرائیوروں، چندسیاست دانوں اور سیاحوں میں بے حد مقبول ہے۔