وں پر سب کی رسائی ہو سکےتمام زبانوں کی فہرست دیکھیں جن میں گلوبل وائسز پر ترجمہ کیا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر کی کہانیا

مضامین سے رائنڈ اپ

2014 کے ورلڈ کپ پر خاتون کا نقطہ نظر

ڈالیا گٹمین نے ان تمام کھلاڑیوں کا جائزہ لیا کہ جو  اٹلی میں کھلے گئے ١٩٩٠ کے ورلڈ کپ سی لے کر برازیل میں جاری ورلڈ ورلڈ کپ کا حصّہ تھے. تجزیہ کی خاص بات یو ہے کہ اس میں وہ کھلارھیوں کا احاطہ کیا گیا ہے کہ جن پر محترمہ گٹمین فریفتہ تھیں. اوہلا لا نامی ویب سائٹ پر اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کے بارے میں لکھنے کے بعد انہں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ:

Como notarán, la única razón por la que puedo registrar a un jugador es si está fuerte o si sale con alguna “famosa”. Es que de fútbol no sé NADA. Lo único que sé es que durante este mes las prioridades de los hombres cambian y la mayoría deja de registrarnos. Ninguno nos da pelota, así que no nos queda otra que babosearnos con estos muchachitos que corren detrás de una ídem (aunque a la mayoría -aceptémoslo- ¡¡¡ya le llevemos como una década!!!)

آپ نے شاید محسوس کیا ہو کہ میں ان ہی کھلاڑیوں کو نوٹ کرتی ہوں جو کہ خوبرو ہوں یہ ان کا ملنا جلنا کسی “مشور” خاتون سے ہو. اور یہ ایسے ہے ہے کہ جیسے میں فٹبال کہ بارے بلکل بھی کچھ نہیں جانتی. میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ اس ایک ماہ میں مرد حضرات کی مصروفیت تبدیل ہو جائیں گی اور وہ ہم خواتین کی طرف کم متوجہ ہوں گے. ان میں سے کوئی بھی ہماری پرواہ نہیں کرے گا لہٰذا ان حالات میں ھمارے پاس ان فٹبال کی پیچھے بھاگتے  لڑکوں کو انتہائی غور سے دیکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں (حالانکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ یہ سب ہم سے کم از کم دس سال چھوٹے ہیں!!!). 

الوداع ہندوستان ایمبیسیڈر

A yellow Hindustan  ambassador taxi at Kolkata Road. Image by D Chakraborty. Copyright Demotix (27/5/2014)

کلکتہ روڈ پر رواں ایک پیلی ہندوستان ایمبیسیڈر ٹیکسی۔ (تصویر بشکریہ ڈی چکربورتی۔ کاپی رائیٹس ڈیموٹیکس 27/05/2014)

ہندوستان موٹرز نے حال ہی میں بھارت کی سب سے مشہور موٹر گاڑی ہندوستان ایمبیسیڈر کی پیداوار کو  معطل کرنے کا اعلان کیا۔ یہ گاڑی سب سے پہلے 1958 میں سڑکوں پر آئی۔ کٹنگ دی چائےپر سومیادیپ چوہدری نے ایک ان آفیشل  اینیمیٹڈ گوگل  ڈوڈل   بنا کر اس کلاسیکی کار کو خراج تحسین پیش کیا۔   یہ گاڑی  اب بھی ٹیکسی ڈرائیوروں، چندسیاست دانوں اور سیاحوں میں بے حد مقبول ہے۔

کی کڑی نگرانی پر کارٹون جمع کرائیں اور1000 ڈالر جیتیں NSA

Commander Keith Alexander on bridge

کمانڈر کیتھ الیکزینڈر کا کارٹون جو بھیجا ہے ڈونکے ہوٹے نے (CC BY-SA 2.0)

The Web We Want کارٹونسٹ، تخلیق کاروں اور آرٹسٹ کوآئن لائن کڑی نگرانی اور حقِ رازداری کے متعلق اصلی کارٹون بنا کر 11 فروری، 2014 کو The Day We Fight Back  کا ممبر بننے کی دعوت دیتا ہے۔ کارٹون سے NSA کے متعلق آگاہی میں اضافہ اور ماس ڈجیٹل کی کڑی نگرانی پر احتساب طلب کرنے میں ایسی مدد ملنی چاہیے کہ جو لوگوں کو کلِک اور شِیئر کرنے پر مجبور کریں۔

کارٹون جمع کرانے کی ختمی تاریخ 8 فروری ہے۔

انعامات:

پہلی پوزیشن:   1000 USD $

دوسری پوزیشن: 500 USD $

تیسری پوزیشن: 250   USD $

اُصول:

1۔ ہر شخص حصہ لے سکتا ہے۔

2۔ کام کو جمع کرا کے تخلیق کار اقرار کرتا ہے کہ یہCreative Commons 4.0 Attribution Share Alike  لائسنس کے تحت سند یافتہ ہے۔  جمع کرانے کی تعداد کی حد فی تخلیق کار مقررنہیں ہے۔

3۔ تخلیق کار اپنا نام یا فرضی نام فراہم کرے  گا۔ مزید ذاتی معلومات جیتنے والوں سے مانگی جاہیں گی – لیکن اُن کا اصل نام تخلیق کار کی درخواست  پر خفیہ رکھا جائے گے۔

4۔ جیتنے والوں کا 11 فروری، 2014 کو اعلان کیا جائے گا۔ جیتنے والوں کو ممبر The Web We  Want کی ایگزیکٹو کمیٹی چنے گی۔

5۔ انعام کی رقم اعلان کے 30 دن کے اندر جیتنے والوں تک پہنچا دیا جاے گا۔

جمع کرانا:

1۔ بذریعہ ای میل: اپنے ہائی ڈیفینیشن،   .jpg, .pdf, .svg     یا .png کارٹون کو  grants@webfoundation.org پر بھجیں اور ای میل کا موضوع سبجیکٹ میں یہ الفاظ درج کریں : کارٹون 8 فروری تک

2۔ بذریعہ ٹویٹر: اپنی تصویر کو اَپ لوڈ کر کے  پرہیش ٹیگ #webwewant کے ساتھ  @webwewant پر ٹویٹ کریں۔

3۔ اپنی قومیت اور اصل مُلک کا نام بتانا اختیاری لیکن انتہائی حوصلہ افزاء ہے۔

پورتو ریکو کے سیاسی قیدی اوسکر لوپز رویرا کی آزادی کے لیے ہزاروں افراد کا مارچ

"Christmas with Oscar Home" says the banner held at the march for the liberation of Puerto Rican political prisoner Oscar López Rivera. Photo from 32 X Oscar.

“کرسمس اوسکر کے ساتھ گھر میں ” سان جوان میں سیاسی قیدی اوسکر لوپز رویرا کے حق منعقد ہونے والے مارچ کے بینر پر لکھا گیا ہے. کریڈٹ فوٹو اوسکر×32

 

 ہزاروں افراد پورتو ریکو کے  سیاسی قیدی اوسکر لوپز کی آزادی کے لیے سان جوان کی طرف مارچ کر ریے ہیں. جن کو ٣٢ سلل پہلے “

باغیانہ ساز ش ” کے چارجز پر قید کیا گیا تھا.  ستر  سالہ لوپز رویرا  پورتو ریکو کی آزادی کا فائٹر ہے . جو  کے امریکہ کی کالونی ہے . سیاستدان ، فنکار اور دوسرے  بہت سے نظریا ت  سے تحلق رکھنے والے لوگ  اکٹھے ہوے  اور امریکہ کے صدر بارک اوباما  سے  لوپز رویرا کی معافی کا مطالبہ  کیا .جو کے ویسٹرن ہمیشپا یر کا سب سے زیادہ قید  کاٹنے والا سیاسی قیدی ہے . مظاہرے  کو برراست  فالو کرنے کے لیے  ادھر کلک کیجیے

    اوسکر لوپز رویرا کے متعلق اور انفارمیشن  کے لیے فیس بک پیجز              

 

 

 

بنگلادیش: ساحل سمندر کی صفائی

ساحل سمندر کی صفائی کے عالمی دن کے موقع پر رضاکار جمع کیے گئے ملبہ کے ساتھ کاکس بیچ پر موجود ہیں. تصویر از اسماعیل فردوس

ساحل سمندر کی صفائی کے عالمی دن کے موقع پر رضاکار جمع کیے گئے ملبہ کے ساتھ کاکس بیچ پر موجود ہیں. تصویر از اسماعیل فردوس

بنگلہ دیش میں اس سال ساحل سمندر کی صفائی کےعالمی دن کے موقع پر ۳۰۰ سے زائد رضا کاروں نےحصہ لیا – کیوکرادنگ(Kewkradong)  بنگلہ دیش بلاگ کے لئے فہیم عالم خان رپورٹ کرتے ہیں.

چھا جاؤ ارجنٹینا – ارجنٹینا کی قومی فٹ بال ٹیم کے نام خط

vamos argentina

تصویر بشکریہ فکونڈوپرمپرو بذریہ فلکر CC BY-NC-ND 2.0.

فٹ بال ورلڈ کپ کی مہم پر جا رہی اپنی ٹیم کی لئے ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے مینوئل ڈی لیون نے اپنی قومی فٹ بال ٹیم کے نام ایک خط لکھا کہ جس میں ٹیم کی حوصلہ افزائی کی لئے پیغامات موجود تھے:

Me tomo hoy, a través de esta carta, el atrevimiento de pedirles que dejen la vida dentro y fuera de la cancha por estos colores; que cuando vayan a correr una pelota, lo hagan como la sangre celeste y blanca que les corre por dentro; que cuando traben una pelota no lo hagan con toda sus fuerzas, sino con la de 40 millones de argentinos, porque vamos a estar con ustedes. Estaremos en oficinas, bares, restaurantes, casas, colectivos, el tren, el subte, las fábricas, en la calle. A lo largo y a lo ancho de un país entero.

اس خط کی مدد سے میں یہ کہنے کی جرات کر رہا ہوں کہ میری آپ سب سی گزارش ہے ملک کی لیے اپنے بہترین کھل سے بھی بہتر کھل پیش کرنا جب گیندکے پیچھے بھاگنا تو ایسے بھاگنا کو جسے ملک کے جھنڈے کا نیلا اور سفید رنگ لہو بن کر آپ لوگوں کی رگوں میں دوڑ رہا ہو. ار جب گیند آپ کو مل جاۓ تو اسی کی ساتھ ایسے کھیلنا کہ جیسے آپ کے سننے میں آپ کے دل کے ساتھ ساتھ چار کروڑ ارجنٹینا کی عوام کا دل بھی دھڑکرہا ہو ایسا اس لئے کہ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں. ہم کہے دفتر میں وں، بار میں ہوں، کسی ریستوران میں ہوں، گھر پر ہوں، عوامی ٹرانسپورٹ جسے ٹرین و سب وے وغیرہ میں ہوں، کسی کارخانے میں ہوں، یہ پھر کسی گلی میں. ملک کی ور کونے میں ہم آپ کے ساتھ ہیں.

ڈی لیون کا ٹویٹر آئ ڈی

یہ پوسٹ چھٹے #LunesDeBlogsGV  کا حصّہ ہے جو ٩ جون ٢٠١٤ کو شائع ہوا 

1942 کے یوکرائن کی روز مرہ زندگی کے حوالے سے پچاس تصاویر

Woman and child in rural Ukraine, 1942. Photo courtesy of www.vintage.es, used under Creative Commons 2.0 license.

دیہاتی یوکرائن میں ایک خاتون اور بچہ، 1942۔ تصویر کریٹو کامنز کے لائسنس کے تحت بشکریہ www.vintage.es 

21 نومبر 2013 سے جاری حکومت کے خلاف مظاہروں نے جہاں یوکرائن کی زندگی کو متاثر کیا ہے وہیں ایک فوٹو بلاگ ملک کی تاریخ ایک ایک اور درد ناک دور کی یاد 52 رنگین تصاویر کی مدد سے تازہ کر رہا ہے جو 1942 کے یوکرائن کی روز مرہ زندگی کے متعلق ہیں۔

1942 میں دیگر یورپی ممالک کی طرح یوکرائن بھی نازیوں کے قبضے میں تھا۔ جیسا کہ انفو یوکیز قارین کو یاد دلاتا ہے:

ہٹلر نے نازی فلسفی ایلفریڈ روزن برگ (1893-1946) کو مشرقی وزارت کا سربراہ اور یوکرائن کے علاقے کے انتظام کا انچارج مقرر کیا۔ جنگ سے قبل روزن برگ یوکرائن نواز اور اینٹی ماسکو (روس) تھا۔ اس نے مغربی روس کے علاقوں پر قبضہ کر کے ایک بڑی یوکرائنی ریاست قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ ہٹلر کا ارادہ کچھ اور تھا۔ اسکا ماننا تھا کہ یوکرائنیوں کو کسی قسم کا ترجیحی سلوک نہیں ملنا چاہیئے لہذا اس نے زاتی طور پر ایرک کوچ کو مشرقی یوکرائن پر اہنی ہاتھوں سے حکومت کرنے مقرر کیا۔ 

کوچ، جسکا تعلق نسل پرست اعلی جرمن ہرنیولک نسل سے تھا، نے یوکرائن میں دہشت گردی اور جبر کا دور شروع کیا۔ کوچ نے کئی مواقوں پر کہا کہ یوکرائینی جرمن کے مقابلے میں ایک ادنی نسل ہیں، یوکرینی آدھے بندر ہیں، اور یہ کہ یوکرینیوں کو غلاموں کی طرح چابک سے قابو کرنا چاہیے۔ اس نے ایک بار یہ بھی کہا تھا کہ “کوئی بھی جرمن فوجی ان غلاموں (یوکرینیوں) کے لئے جان نہیں دے گا۔”

تاہم پرانے دور کی روز مرہ زندگی کی تصاویر کہانی کا ایک مختلف پہلو ظاہر کرتی ہیں۔ نازیوں کے مقبوضہ یوکرائن میں اور سرحدوں پر جاری دوسری جنگ عظیم کے اس ظالمانہ دور میں بھی لوگ اپنی بساط میں معمول کی زندگی گزارنے کی کوشش کرتے تھے۔ 

جرات ۔دہلی اجتماعی عصمت دری کو ایک برس

Jurrat wants Delhiites to reclaim the streets of Delhi.

10 سے 16 دسمبر کو خواتین کے خلاف تشدد پر ایک مہم  Jurrat (جرات)، دہلی میں ہونے والی  سنگین اجتماعی عصمت دری کی برسی کے موقع پر تقریبات کا اہتمام کر رہا ہے. ایک سال پہلے ایک 23 سالہ میڈیکل کی طالبہ کو دہلی بس میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا.

16 دسمبر کو ایک کنسڑٹ کا اہتمام  کیا جا رہا ہے۔ سوانگ  (ممبئی کا تھیٹر اور احتجاج موسیقی گروپ) اور مجمع (دہلی  کی ثقافتی گروپ) کی طرف سے ایک موبائل موسیقی کنسرٹ  16th دسمبر 2013 کو دہلی کی سڑکوں پر چلتی ٹریلر پر کارکردگی کا مظاہرہ کر ے گا. آرگنائزر سوارہ باسکر کے مطابق، “ہم نے دہلی کی سڑکوں کو تمام خواتین کے لئے ان کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں.”

سوانگ نے دہلی واقعہ کے بارے میں ، ‘ماں نی میری’ ایک گیت بنایا  ہے 

سوارہ  مزید کہتی ہیں:

 جنس کی بنیاد پر  تشدد کے خلاف  لڑنے کے لئے ، احتجاج کرنے کے لئے اور جنسی تشدد کے خلاف عہد کرنے کے لئے 16th دسمبر 2013 کو دہلی کی سڑکوں پر نکلیں ۔

 

 

 

وڈیو: نا کوئی خاتون، نا ہی کوئی ڈرائیو! جب ایک سعودی خاتون نے دنیا کو حیران کردیا

آج، October 6 وہ دن ہے جب سعودی ایکٹوسٹس نے ریاست بھر میں خواتین پے لگے ڈرائیونگ بین کے خلاف احتجاج کیا. جہاں پر ایک طرف سوشل نیٹ ورکس بھرتے جارہے تھے دنیا بھر کے ایکٹوسٹس کی آوازوں اور ملک بھر میں خواتین کے سیمبولک ڈرائیونگ کرنے سے، وہیں Bob Marley کے خوبصورت “No Woman، No Cry” کا cappella ریمیک ہر جگہ پر چھا گیا! یہ زبردست ریمیک روشنی کی رفتار کی طرح تیزی سے ان بہادر خواتین، جو کے قدامت پسند سکسسٹ قانونسازی اور psuedo-scientific justification کو چیلنج کر رہیں تھیں، کی ایک مضبوط اور یادگار آواز بن گیا!