وں پر سب کی رسائی ہو سکےتمام زبانوں کی فہرست دیکھیں جن میں گلوبل وائسز پر ترجمہ کیا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر کی کہانیا

کوئٹہ میں خواتین نے رستوران چلا کے تمام سماجی روکاوٹوں کو توڑ دیا

حمیدہ علی ہزاراہ، ہزاراہ رستوران، ہزاراہ ٹاؤن کوئٹہ میں اپنے عملے اور سرپرستوں کے ساتھ ۔ حمیدہ بائیں جانب سے چوتھیں ہیں۔ یہ تصویر ان کے فیس بک اکاؤنٹ سے ان کی اجازت سے لی گئی ہے.

ہزارہ ٹاؤن پاکستانی مغربی شہر کوئٹہ کا ایک درمیانہ آمدن رکھنے والا حصہ ہے جہاں رستوران ہونا غیر معمولی بات نہیں۔ مگر ایک رستوران نے کئ لوگوں کی توجہ حاصل کی ہے. سادا طرز سے بنے ہوئے اس رستوران کے اندرونی حصے کو ہزارگی سجاوٹ اور گوتم بدھ کے  پوسٹر سے سجایا گیا ہے۔ البتہ سب سے غیر معمولی یہ حقیقت ہے کہ اس رستوران کو خصوصی طور پر صرف خواتین چلا رہی ہیں۔

ہزارہ وہ عقلیتی گروہ ہے جو ہزارگی/داری زبان بولتا ہے۔ ہزارہ قوم نے افغانستان میں طالبان کے ہاتھوں کئے جانے والے نسلی خاتمے سے بچنے کے لئے پاکستان اور ایران میں پناہ لی، جہاں اب بھی انھیں باقائدہ جبروتشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اکثر ہزارہ کے لوگ مزہبی طور پر شیعہ مسلمان ہیں. اس موسم گرما, ہزاره رستوران نے اپنے دروازے ان خواتین اور خاندانوں کے لیے کھولے جو صوبائی دارلحکومت, کوئٹه میں معیاری وقت گزارنے کی تلاش میں تھے.

حمیدہ علی ہزارہ، جو خود اسی پسماندہ عقلیت کا حصہ ہیں،اس رستوران کی کرتا دھرتا ہیں۔ اس رستوران کے مینیو میں روایتی پاکستانی پکوان جیسے بریانی، کڑہائی، کباب اور تازہ پھلوں کے رس شامل ہیں۔

اس نئی تخلیق کردہ جگہ کو کانفررنس، سماجی میل جول، شادی اور سالگرہ کی تقریبات کے  لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہزارہ رستوران کو کل چھ خواتین چلاتی ہیں۔

شائد #ہزارہ ٹاؤن #کوئٹه میں پھلا ریستوران جو که ایک کاروباری خاتون حمیده علی ہزارہ کی طرف سے ڈیزائن کیا گیا هے رکاوٹیں توڑ رہا ہے.

ہزاره ریستوران ہزاره کی خواتین کمیونٹی کا دوسرا گھر ہے. یہ پہلو دماغ تبدیل کر رہا ہے اور دلوں پر حملہ کر رہا ہے. #ہزاره ریستوران

“میں یہ سوچ کہ نہیں رکوں گی که ” لوگ کیا کہیں گے”.

حمیدہ علی ہزارہ، جو کہ ایک سماجی  اور سیاسی کارکن بھی ہیں، مگر وہ “حرمت نسواں فاونڈیشن” کی بانی کی حیثیت سے جانی جاتی ہیں۔ اس فاونڈیشن کے ذریعے ہزارہ خواتین صحت٬ تعلیم اور کھیل کے ذریعے اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکتی ہیں۔ ایچ۔این۔ایف نے درجنوں ہزارہ لڑکیوں کی لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں وضیفے پر تعلیم حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔

کاروبار کی دنیا میں ترقی سے آنے والی نسلوں کے لئے ایک بہترین مثال قائم ہوئی ہے۔ پاکستان میں ایک اکیلی عورت کا رستوران کھولنے میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

گلوبل واسز سے ٹیلیفونک انٹرویو میں حمیدہ نے کہا:”کچھ عزیزوعقارب نے میرے کاروبار کرنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔”

“انھوں نے میرے پیٹھ پیچھے میری برائی کی۔مگر میں ان لوگوں کی ان باتوں کی وجہ سے اپنی محنت ضائع نہیں ہونے دوں گی۔”

مشکلات کے باوجود، یہ رستوران اچھا کاروبار کر رہا ہے۔ دوپہر اور شام کے کھانے کے اوقات پہ یہاں لوگوں کا اتنا رش رہتا ہے کہ سٹاف کو ہر کسی کی یکساں خدمت کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ اس رستوران کے ذریعے، حمیدہ کے لئے ان کے سٹاف کی ترقی سب سے خوشگواری ہے۔

حمیدہ نے کہا؛”ہماری ایک ملازمہ شروعات میں بہت خاموش اور اداس رہا کرتی تھی۔ وہ اس لئے کیونکہ برے معاشی حالات کی وجہ سے وہ اپنی پڑہائی جاری نہیں رکھ سکی۔مگر اس رستوران کے ذریعے اب وہ پڑہنے لگی ہے۔مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔”

Quettaکوئٹه میں رات کا منظر. تصویر فلیکر پر بلوچستان (Beluchistan) صارف نے پوسٹ کی. CC BY-SA 2.0

جس طرح ملازمین کی تعلیم ایک مقصد ہے، اسی طرح حمیدہ کو یقین ہے کے وقت کے ساتھ ساتھ اس طرح کے منصوبوں کو معاشرے کی قبولیت ملے گی۔ حمیدہ کی سوچ کی نمائندگی کرتے ہوئے، کوئٹہ کی ایک مقامی بیکری نے اپنے طرز کے پہلے نوکری کے اشتہار کو نشر کرتے ہوئے،خصوصی طور پہ ہنرمند خواتین کو رجوء کیا۔

حمیده علی ھزاره نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا۔” سالوں پہلے، ہزارہ ٹاؤن میں خواتین کی زندگی گھر کی چار دیواری تک محدود تھی٬ مگر اب ایسا نہیں ہے۔تعلیم خواتین کی ذہنیت کو تبدیل کر رہی ہے۔”

خطرناک دنیا میں ایک محفوظ پناہ

عدم تحفظ، کوئٹہ میں کاروباروں خاص طور پر ہزارہ لوگوں کے کاروباروں کا لگاتار مسلئہ ہے۔ پاکستانی میڈیا نے حال ہی میں 9 اکتوبر کو رپورٹ شائیہ کی کہ، فائرنگ میں جانبحاق ہونے والے 5میں سے 3 ہزارہ تھے، جسے پولیس نے فرقہ واریت کا نام دیا۔

اکتوبر سانحے کے نتیجے میں سوگوار ہزارہ نے کوئٹہ کے میزان چوک میں خود پر ہو رہے تشدد کے خلاف احتجاج کیا۔ افغانستان  میں بھی ہزارہ باقاعدگی سے انتہاپشندی کا شکار ہو رہے ہیں۔

ممکنہ تشدد کے ڈر سے ہزارہ گروہ، ہزارہ ٹاؤن جیسے علاقوں میں کاروبار کرتے ہیں، جہاں ان کی اکثریت ہے۔حمیدہ نے حفاظت کے لئے رش سے بھرے ہوئے بازار کی بجائے آلیاباد روڈ پر اپنی دکان کھولنے کا فیصلہ کیا۔

مگر خطرے اور روکاوٹوں کی صورت میں، ہزارہ رستوران خود ایک مقدس ہے۔ ادھر حمیدہ اور ان کی برادری بلاجھجک منظم ہو کر مسائل پر بحث کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہاں کا کھانا بھی عمدہ ہے۔

بات چیت شروع کریں

براہ مہربانی، مصنف لاگ ان »

ہدایات

  • تمام تبصرے منتظم کی طرف سے جائزہ لیا جاتا ہے. ایک سے زیادہ بار اپنا ترجمہ جمع مت کرائیں ورنہ اسے سپیم تصور کیا جائے گا.
  • دوسروں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں. نفرت انگیز تقریر، جنسی، اور ذاتی حملوں پر مشتمل تبصرے کو منظور نہیں کیا جائے.