وں پر سب کی رسائی ہو سکےتمام زبانوں کی فہرست دیکھیں جن میں گلوبل وائسز پر ترجمہ کیا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر کی کہانیا

بنگلا دیش کی پانی پر تیرتی امرودوں کی منڈی کا تصویری سفر

Kuriyana, Swarupkathi, Bangladesh | 2015 © Md. Moyazzem Mostakim, Timur Photography. Used with permission

کریانا، سوارپکاٹھی، بنگللا دیش – 2015
کاپی رائیٹ – محمد معظم مستقیم، تیمور فوٹو گرافی کی اجازت سے شایع کی گئی

بنگلادیش کے جنوبی علاقہ میں کہ جہااں دریا اور نہریں آپس میں ملتے ہیں وہاں ایک سرسبز خطہ موجود ہے۔ اس پانی پر کشتی سے سفر کرتے ہوئے آپ کو امرودوں کے بے شمار باغات نظر آئیں گے۔ ان امرودوں کی پیداوار اور فروخت سے ہزاروں کسان اپنی روزی کماتے ہیں کسان اور تھوک فروش اس علاقے میں موجود تیرتی ہوئی منڈی میں کاروبار کرتے ہیں، یہ منڈیاں تھائی لینڈ کی مقبول تیرتی ہوئی منڈیوں سے مشابہت رکھتی ہیں۔

امرود کو ‘استوائی علاقہ کا سیب’ بھی کہا جاتا ہے۔ گو کہ اس پھل کی اولین پیداوار استوائی امریکہ میں ہوئی خاص کر موجودہ پیرو اور میکسیکو کے درمیانی علاقہ میں، لیکن آج یہ پھل بنگلادیش کی اہم ترین پھل فصلوں میں سے ایک ہے، جہاں یہ ملک بھر میں اگایا جاتا ہے۔ بنگلادیش کا شمالی علاقہ خاص کر باریسل، فیروزپور (پیروج پور) اور جھلبوکاٹھی کے اضلاع امرود کی پیداوار کے اہم ترین مراکز ہیں۔

ان تیرتی ہوئی منڈیوں کا دورہ کرنے کے بعد شمشیر نے اپنے بلاگ میں کچھ یوں ان کا ذکر کیا:

কুড়িয়ানা বাজার, আটঘর আর ভীমরুলি বাজারে বসে পেয়ারার হাট। চাষীরা বাগান থেকে পেয়ারা সরাসরি ছোট ছোট নৌকায় করে এসব হাঁটে নিয়ে আসে, পাইকাররা এখান থেকে সংগ্রহ করে পৌঁছে দেয় সারা বাংলাদেশে।

یہ پانی پر تیرتی ہوئی منڈیاں کریانا، آٹھگھور، اور ویمرولی کے علاقہ میں پائی جاتی ہیں جہاں چھوٹی کشتیوں پر لاد کر امرود فروخت کے لئے لائے جاتے ہیں، یہاں سے تھوک فروش امرود خرید کر ملک بھر میں ان کی فروخت اور ترسیل کرتے ہیں۔

یہ بات کوئی بھی نہیں جانتا کہ یہ منڈی کب سے آباد ہے لیکن ائک اندازے کے مطابق یہ سلسلہ کم از کم سو سال سے جاری ہے۔ بھیمرولی کے مقام پر کیرتیپاشا نہر پر تیرتی ہوئی منڈی ان تمام منڈیوں سے بڑی ہے۔ جولائی اور اگست کے مہینوں میں جو کہ امرود کا موسم ہوتا ہے ان منڈیوں میں ایک جان آ جاتی ہے۔ دیگر پھل جیسا کہ ہاگ بیر لیمو، ناریل اور کیلے بھی سال بھر ان منڈیوں میں خرید و فروخت کے لئے لائے جاتے ہیں۔ یہاں کسانوں کےپاس باقاعدہ ذرائع ابلاغ نہ ہونے اور ذخیرہ کرنے کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے پھلوں کی مارکیٹ میں قیمت بہت کم لگتی ہے، لیکن اب موبائل فون کے آ جانے سے منظر نامہ بدلتا جا رہا ہے۔

“جرنی ٹو بنگلادیش” نامی یوٹیوب چینل نے ایک ویڈیو اپ لوڈ کی کہ جس میں تیرتی ہوئی منڈیوں اور باریسل کے امرودوں کے باغوں کا احاطہ کیا گیا پے۔

اپنے فیس بک کے صفحہ’تیمور فوٹوگرافی‘ پر فوٹوگرافر محمد معظم مستقیم نے ان منڈیوں کی درجنوں تصاویر لگا رکھی ہیں اور ان تصاویر کو اتنا پسند کیا یا کہ یہ وائرل کا درجہ اختیار کر گئیں۔ جناب مستقیم کی اجازت سے ہم نے چند تصاویر ذیل میں استعمال کی ہیں۔

Collecting Guava from orchards. Vimruli, Jhalokathi, Bangladesh | 2015 © Md. Moyazzem Mostakim, Used with permission

باغ سے امرود توڑتے ہوئے۔ ویمرولی، جھلوکاٹھی، بنگلادیش – 2015
کاپی رائیٹ – محمد معظم مستقیم، تیمور فوٹو گرافی کی اجازت سے شایع کی گئی

On the way to the market. Atghor, Swarupkathi, Bangladesh | 2015 Md. Moyazzem Mostakim, Used with permission.

منڈی کو جاتے ہوئے۔ آٹگھور، سواروپکاٹھی، بنگلادیش – 2015
کاپی رائیٹ – محمد معظم مستقیم، تیمور فوٹو گرافی کی اجازت سے شایع کی گئی

Guava Sellers arriving via canals. Atghor, Swarupkathi, Bangladesh | 2015 Md. Moyazzem Mostakim, Used with permission

امرود فروش نہر کے راستے منڈی کو جاتے ہوئے۔ آٹگھور، سواروپکاٹھی، بنگلادیش – 2015
کاپی رائیٹ – محمد معظم مستقیم، تیمور فوٹو گرافی کی اجازت سے شایع کی گئی

Guava Sellers arriving via canals. Atghor, Swarupkathi, Bangladesh | 2015 Md. Moyazzem Mostakim, Used with permission

امرود فروش نہر کے راستے منڈی کو جاتے ہوئے۔ آٹگھور، سواروپکاٹھی، بنگلادیش – 2015
کاپی رائیٹ – محمد معظم مستقیم، تیمور فوٹو گرافی کی اجازت سے شایع کی گئی

Floating Guava Market in Full flow. Vimruli, Jhalokathi, Bangladesh | 2015 © Md. Moyazzem Mostakim, Used with permission

تیرتی ہوئی امرود منڈی اپنی پوری آب وتاب پر۔ ویمرولی، جھلوکاٹھی، بنگلادیش – 2015
کاپی رائیٹ – محمد معظم مستقیم، تیمور فوٹو گرافی کی اجازت سے شایع کی گئی

Hoards of Tourist entering the village market in Vimruli, Jhalokathi, Bangladesh | 2015 © Md. Moyazzem Mostakim. Used with permission

سیاحوں کا ٹولہ منڈی کی جانب آتے ہوئے۔ ویمرولی، جھلوکاٹھی، بنگلادیش – 2015
کاپی رائیٹ – محمد معظم مستقیم، تیمور فوٹو گرافی کی اجازت سے شایع کی گئی

A casual chat between sellers. Vimruli, Jhalokathi, Bangladesh | 2015 © Md. Moyazzem Mostakim, Used with permission.

امرود فروشوں کے مابین ہلکی پھلکی گفتگو کا ایک منظر۔ ویمرولی، جھلوکاٹھی، بنگلادیش – 2015
کاپی رائیٹ – محمد معظم مستقیم، تیمور فوٹو گرافی کی اجازت سے شایع کی گئی

Sold to a wholesaler - Vimruli, Jhalokathi, Bangladesh | 2015 © Md. Moyazzem Mostakim, used with permission.

تھوک فروش کو فروخت ہوئے۔ ویمرولی، جھلوکاٹھی، بنگلادیش – 2015
کاپی رائیٹ – محمد معظم مستقیم، تیمور فوٹو گرافی کی اجازت سے شایع کی گئی

اس تیرتی ہوئی امرود منڈی کی مزید تصاویر یہاں دیکھی جا سکتی ہیں۔

بات چیت شروع کریں

براہ مہربانی، مصنف لاگ ان »

ہدایات

  • تمام تبصرے منتظم کی طرف سے جائزہ لیا جاتا ہے. ایک سے زیادہ بار اپنا ترجمہ جمع مت کرائیں ورنہ اسے سپیم تصور کیا جائے گا.
  • دوسروں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں. نفرت انگیز تقریر، جنسی، اور ذاتی حملوں پر مشتمل تبصرے کو منظور نہیں کیا جائے.