وں پر سب کی رسائی ہو سکےتمام زبانوں کی فہرست دیکھیں جن میں گلوبل وائسز پر ترجمہ کیا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر کی کہانیا

ایرانی کارٹونسٹ ہادی حیدری جیل سے رہا

Hadi Heidari announced his release from Evin Prison with a cartoon on his Instagram account

ہادی حیدری نے جیل سے اپنی رہائی کا اعلان انسٹا گرام پر ایک کارٹون کے زریعے کیا۔

ایرانی کارٹونسٹ ہادی حیدری کو جیل سے رہا کر دیا گیا ہے . آرٹسٹ نے ، منگل، 26 اپریل کو، Instagram پر ایک پوسٹ میں اپنی رہائی کا اعلان کیا، جہاں انہوں نے اپنے دوستوں اور حامیوں کاقید کے دوران ان کا ساتھ دینے کا شکریہ ادا کیا۔


سلام بر آزادى! | به لطف خداوند بزرگ پس از گذراندن ايام حبس، امشب از زندان اوين آزاد شدم. از همه شما دوستاني كه در اين مدت مهر و لطف خود را شامل حال بنده و خانواده ام كرديد بى نهايت ممنونم. اميدوارم لايق محبت هايتان باشم.

سلام بر آزادى! ! خدا کے فضل و کرم سے ،آج رات مجھے جیل میں اپنا وقت پورا کرنے کے بعد، ایون جیل سے رہا کر دیا گیاہے۔ میں آپ سب کا مشکور ہوں. میں اپنے تمام دوستوں کا انتہائی مشکور ہوں جنہوں نے اس دوران میری اور میرے خاندان کی حمایت کی . شکریہ . امید ہے میں آپ کی رحم دلی کے قابل ہوں .
Hadi Heidari's cartoon 'France cried' captured the emotions following the November 13 Paris Attacks. Image from Heidari's Facebook.

ہادی حیدری کا کارٹون “روتا ہوا فرانس ” 13 نومبر کو پیرس حملوں کے بعد کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے .حیدری کے فیس بک پیج سے لی گئی تصویر .

حیدری کو بین الاقوامی توجہ اس وقت حاصل ہوئی جب انہوں نےپیرس میں نومبر 2015 کے حملوں پر کارٹون بنایا ، اس حملے میں 120 سے زائد افراد ہلاک ہوئے . کارٹون کی اشاعت کے کچھ ہی دیر بعد ، انہیں گرفتار کیا گیا تھا .

حیدری کی رہائی سے ان کے ایرانی حکام کے ساتھ صرف حالیہ مسائل کا خاتمہ ہوا ہے . اس سے پہلے  2009 میں انہیں گرفتار کیا گیا تھا، اور پھر دسمبر 2010 کے صدارتی انتخابات کے دوران بھی وہ گرفتار ہوئے تھے۔

اس سے پتا چلتا یے کہ حیدری کے لیے تنازعات کوئی نئی بات نہیں ہے . ان کا کارٹون ، آنکھوں پر پٹی ڈالے مرد ، شرگ نیوز میں شائع ہوا ،2012 میں اخبار کے ناشر کو جیل ہوئی۔ کچھ حلقوں میں یہ کارٹون ایران عراق جنگ کے سابق فوجیوں کی توہین کے طور پر دیکھا گیا . کارٹون کے شائع ہونے کے ایک دن کے بعد ، حیدری کو عدالت میں گواہی کے لیے طلب کیا گیا . ( اخبار اور ناشر کو بالآخر تمام الزامات سے بری کر دیا گیا۔)

گلوبل وائسز نے 2015 میں حیدری کی گرفتاری پر رپورٹ کی تھی۔ رپورٹ یہاں ملے گی۔

اگرچہ ایران میں اب بھی بہت سے فنکار بند ہیں۔ مثال کے طور پر ، عتینا فرگھادنی ، ایک اور کارٹونسٹ ، ابھی بھی جیل میں ہے . پیر ، 25 اپریل کو اس کی 12 سال کی سزا 18 ماہ کی کر دی گئی۔ اسے وسط مئی میں جیل سے رہا کر دیا جائے  گا۔

بات چیت شروع کریں

براہ مہربانی، مصنف لاگ ان »

ہدایات

  • تمام تبصرے منتظم کی طرف سے جائزہ لیا جاتا ہے. ایک سے زیادہ بار اپنا ترجمہ جمع مت کرائیں ورنہ اسے سپیم تصور کیا جائے گا.
  • دوسروں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں. نفرت انگیز تقریر، جنسی، اور ذاتی حملوں پر مشتمل تبصرے کو منظور نہیں کیا جائے.