وں پر سب کی رسائی ہو سکےتمام زبانوں کی فہرست دیکھیں جن میں گلوبل وائسز پر ترجمہ کیا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر کی کہانیا

بنگلادیش کا روایتی افطار ،،بارہ تصویروں میں

Chawkbazar of old Dhaka is the place for the traditional Iftar market in Bangladesh. According to historians, the market started before 1857. Image by SK Hasan Ali. Copyright: Demotix (30/6/2014)

بنگلہ دیش میں پرانے ڈھاکا کا چوک بازار روائیتی افطار مرکیٹ کا جائے مقام ہے۔ تاریخ دانوں کے بقول یہ مارکیٹ 1857 سے بھی پہلے سے لگ رہی ہے۔  تصویر: ایس کے حسن علی کاپی رائیٹ ڈیموٹکس 30/6/2014

بنگلادیشی دارلحکومت ڈھاکہ کی گلیاں رمضان میں  غروب آفتاب سے کچھ دیر پہلے افطار کی تیاریوں میں کسی بفٹ کا منظر پیش کررہی ہوتی ہیں
بنگلادیش کی نوے فیصد آباد ی مسلمان ہے، لہذا اس بات میں کوئی اچنبہ نہیں ہے، رمضان وہ مہینہ ہے جس میں مسلمان سورج طلوع ہونے سورج غروب ہوے تک کھانے پینے اور جنسی تعلقات سے اجتناب برتتے ہیں ۔اور رمضان کے دوران کھانے کی روایات بلکل بدل جاتی ہیں۔

بڑے بڑے مشہور ریسٹورانٹس سے لے کر چھوٹی چھوتی گلیوں میں لگے ٹھیوں تک، ہر کسی کے پاس خاص قسم کے کھانے ہوتے ہیں، اور سڑک کنارے چلتے گاہکوں کو لذیذ کھانوں کی خوشبوئیں کھینچتی ہیں۔

ڈھاکہ کا روایتی قدیم چوک بازار جہاں افطار کے سامان کے لیے مارکیٹ میں کافی رش نظر آرہاہے ،تاریخ دانوں کے مطابق یہ بازار صدیوں پرانا ہے، اور یہاں کے روایتی کھانے بھی۔

ڈھاکہ کہ شاہی افطار میں شمار ہوتے ہیٕں جو سولہویں صدی میں مغل سلطنت کے دور میں رائج تھے۔

شاہی جلاپی

 شاہی جلاپی ڈھاکہ کی مشہور مٹھائی ہے جس کہ مغل دور سے بنگال میں کھائی جا رہی ہے۔ تصویر- ریپورٹر نمبر 11455۔ کاپی رائیٹ ڈیموٹکس 21/7/2012

شاہی جلاپی ڈھاکہ کی مشہور مٹھائی ہے جس کہ مغل دور سے بنگال میں کھائی جا رہی ہے۔ تصویر- ریپورٹر نمبر 11455۔ کاپی رائیٹ ڈیموٹکس 21/7/2012

Shahi Haleem

گوشت اور دالوں سے تیار کردہ شاہی حلیم۔ تصویر - ریپورٹر#11455، کاپی رائیٹ ڈیموٹکس 5/9/2009

گوشت اور دالوں سے تیار کردہ شاہی حلیم۔ تصویر – ریپورٹر#11455، کاپی رائیٹ ڈیموٹکس 5/9/2009

شاہی دہی بورا

شاہی دہی بورا، افطار میں اکثر استعمال ہونے والی سوغات ہے۔ -تصویر - فہد کائزر۔ کاپی رائیٹ: ڈیموٹکس 30/6/2014

شاہی دہی بورا، افطار میں اکثر استعمال ہونے والی سوغات ہے۔ -تصویر – فہد کائزر۔ کاپی رائیٹ: ڈیموٹکس 30/6/2014

بلاگر بوکا مانوش بولتی چائے لکھتےہیں:

ষোড়শ শতকে মোঘল সাম্রাজ্য বিস্তৃত হয়ে ঢাকায় ডেরা ফেলার সময়টায় তারা সাথে করে নিয়ে আসে তাদের রাঁধুনি দলকে। কারণ, মোঘলদের অন্যতম বৈশিষ্ট্য ছিল আরাম আয়েশ আর বিলাস বহুল জীবনাচার যার অন্যতম অনুষঙ্গ ছিল তাদের মুখরোচক নানান খাবার দাবার। আর এসব খাবারের অন্যতম উপাদান ছিল হরেক রকম মশলা আর তেলের যথেষ্ট ব্যবহার। আর মোঘলদের এই বিলাসী জীবন যাপনের জন্য সাথে করে বয়ে আনা কর্মচারী-খানসামা-বাবুর্চি একসময় যথেষ্ট হয়ে উঠে না, ফলে আশেপাশের লোকালয় হতে বহু লোকের চাকুরী জোটে মোঘল পরিবারসমূহে। অন্যান্য পদের মত হেঁসেলেও স্থান হয় কতিপয় রন্ধন কারিগরের। আর তাদের হাত ধরেই মোঘল খাবার প্রাসাদের বাইরে বিস্তৃতি পায়।

سولہویں صدی میں مغل سلطنت نے ڈھاکہ تک اپنا تسلط بڑھایا ،اور سب سےپہلے ڈھاکہ میں اپنا  ایک کیمپ قائم کیا ،جہاں وہ کھانا پکانے کے لیے اپنی خود کی ٹیم لائے، مغلوں نے اپنے آرام اور پرآسائش زندگی گزاری۔ اور ان کے کھانے پکانے کا انداز مغلوں کی زندگیوں میں اہمیت رکھتا ہے، ان کے باورچی تیز مصالحے اور زیادہ مقدار میں روغن کا استعمال کرتے تھے تاکہ کھانا لذیذ  بنے ۔اپنے شاہانہ انداز کوبرقرار رکھنے کے لیے اپنے مقامی باورچی اور بیرے رکھے جاتے تھے ،،جن میں سے کچھ مغلیہ کھانے پکانے  سیکھے ہوئے تھے، ،اورانہی باورچیوں کی بدولت مغلیہ کھانے ڈھاکہ اور اس کے اطراف تک پھیلے ۔

سوتی کباب

سوتی کباب - قیمے کے بنے کباب جنہیں دھاگے سے باندھ کر کباب کی شکل دی جاتی ہے۔ تصویر - ریپورٹر#11455، کاپیرائیٹ: ڈیموٹکس 12/8/2010

سوتی کباب – قیمے کے بنے کباب جنہیں دھاگے سے باندھ کر کباب کی شکل دی جاتی ہے۔ تصویر – ریپورٹر#11455، کاپیرائیٹ: ڈیموٹکس 12/8/2010

ران

ران روسٹ، بکرے کی ران شادی بیاہ کی تقاریب میں بڑی مقبول ڈش ہے۔ تصویر - حسن علی۔ کاپیرائیٹ: ڈیموٹکس 30/6/2014

ران روسٹ، بکرے کی ران شادی بیاہ کی تقاریب میں بڑی مقبول ڈش ہے۔ تصویر – حسن علی۔ کاپیرائیٹ: ڈیموٹکس 30/6/2014

چکن روسٹ

افطار مارکیٹ میں ملنے والا مرغ روسٹ۔ تصویر - ایس کے حسن علی۔ کاپی رائیٹ: ڈیموٹکس 30/6/2014

افطار مارکیٹ میں ملنے والا مرغ روسٹ۔ تصویر – ایس کے حسن علی۔ کاپی رائیٹ: ڈیموٹکس 30/6/2014

بکرا روسٹ

ایک عدد سالم بکرا روسٹ۔ تصویر - فیروض احمد۔ کاپی رائیٹ: ڈیموٹکس 21/7/2012

ایک عدد سالم بکرا روسٹ۔ تصویر – فیروض احمد۔ کاپی رائیٹ: ڈیموٹکس 21/7/2012

بورا باپر پولے کھائی

بورا پاپر پولے کھئای بیچکتے وقت خوانچے والے گا گا کر گاہوکوں کواپنی جانب متوجہ کرتے ہیں

The most popular delicacy "boro baper polay khai", made with 13 spices and ghee including a mixture of chickpeas, beef brain, minced meat, potatoes, dried rice, egg, chicken. Image by Firoj Ahmed. Copyright Demotix (21/7/2012)

مقبول ترن کھاجہ بورا باپر پولے کھائی، تیرہ مصالحوں سے تیار کیا جاتا ہے اس کو بنانے میں گھی، سفید چنے، بیف مغز، قیمہ، آلو، خشک چاول، چکن، اور انڈے استعمال ہوتے ہیں۔ .فیروض احمد۔ کاپی رائیٹ: ڈیموٹکس 21/7/2012

ایک عام بنگالی گھرانے کا افطاری دستر خوان کچھ ایسا دِکھتا ہے:

افطار نہ صرف خاندانوں کے اندر ہوتا ہے بلکہ اس سے کمیونٹی میں بھی اتحاد ہوتا ہے ، بدھ مت کے لوگ بھی غریب مسلمانوں میں رمضانوں کے رمیان افطار تقسیم کرتے ہیں۔

ڈھاکہ یونیورسٹی کے ٹیچر اسٹوڈنٹ سینٹر میں افطار کے لئے اکٹھے ہوئے روزہ دار. تصویر - محمد اسد۔ کاپی رائیٹ ڈیموٹکس 29/6/2015

ڈھاکہ یونیورسٹی کے ٹیچر اسٹوڈنٹ سینٹر میں افطار کے لئے اکٹھے ہوئے روزہ دار. تصویر – محمد اسد۔ کاپی رائیٹ ڈیموٹکس 29/6/2015

عائشہ اپنے بلاگ میں لکھتی ہیں:

In Bangladesh, a wide variety of foods is prepared to break the fast at Maghrib (evening prayer) time. Some of the common iftar items from Bangladeshi cuisine include Piyaji (made of lentils paste, chopped onions, green chilies, like falafel), Beguni (made of thin slices of eggplant dipped in a thin batter of gram flour), Jilapi, Muri ( puffed rice similar to Rice Krispies ) , yellow lentil grains, usually soaked in water and spiced with onion, garlic, chilli and other iftar items), Haleem, dates, samosas, Dal Puri (a type of lentil based savoury pastry), Chola (cooked chickpeas), fish kabab, mughlai paratha (stuffed fried bread with minced meat and spices), pitha, traditional Bengali sweets and different types of fruits such as watermelon. Drinks such as Rooh Afza and lemon sharbat are common on iftar tables across the country. People like to have iftar at home with all family members and iftar parties are also arranged by mosques.

بنگلادیش میں افطار کے لیے قسم قسم کے کھانے کھائے جاتے ہیں ، افطار مین کھائے جانے والے زیادہ تر کھانوں میں  دال کے پیسٹ ، کٹی پیاز اور ہری مرچوں سے بنا پیاجی ، میدے کے آمیزے میں لپٹی بینگن کی قتلیاں جنہیں بیگونی کہا جاتا ہے ، جلاپی ،،کررے چاول ،جنہیں موری کہا جاتا ہے، پیلی دال ،،حلیم ،کھجور ،سموسہ ،دال پوری ، چھولے ، مچھلی کے کباب ،قیمہ بھرا مغلی پراٹھا ، پیٹھا جو روایتی بنگالی مٹھائی اور تربوز شامل ہیں ،شربتوں میں روح افزا ،لیموں کا شربت افطار کے دسترخوان پر خاص ہوتے ہیں ، لوگ افطار اپنے گھر والوں کے ساتھ ،،مسجدوں اور افطار پارٹیوں میں بھی کرتے ہیں۔

بلاگر محمد الیاس چودھری افطار کے وقت بازاروں میں رش کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ইফতার সময়ের আধ ঘন্টা আগে এসেও দেখি এই লেভেলে তিল ধারণ করার স্থানটুকু নেই। সব সীট বুকড। তারপর করিড়োর, হাটার চিপা গলি, মেঝের মাঝখান সব খানেই ব্লকড। কিছু খাবার অর্ডার দিয়ে যে নিয়ে আসবো সেই পথটুকুও যেন বন্ধ। […]

افطار سے آدھے گھنٹے پہلے ،،بازاروں کے فوڈ کورٹس میں رش ہوتا ہے ، ساری کرسیاں بکڈ ہوتی ہیں ،بازاروں کی راہداریاں بھی بھری ہوتی ہیں اور افطار لینے والے انتظار کررہے ہوتے ہیں  اور چلنے کی جگہ بھی نہیں ہوتی ۔

بات چیت شروع کریں

براہ مہربانی، مصنف لاگ ان »

ہدایات

  • تمام تبصرے منتظم کی طرف سے جائزہ لیا جاتا ہے. ایک سے زیادہ بار اپنا ترجمہ جمع مت کرائیں ورنہ اسے سپیم تصور کیا جائے گا.
  • دوسروں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں. نفرت انگیز تقریر، جنسی، اور ذاتی حملوں پر مشتمل تبصرے کو منظور نہیں کیا جائے.