وں پر سب کی رسائی ہو سکےتمام زبانوں کی فہرست دیکھیں جن میں گلوبل وائسز پر ترجمہ کیا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر کی کہانیا

پاکستان: براہ راست نشریات کے دوران ایک ہندو لڑکے کا قبولِ اسلام

رمضان کے مہینے کے دوران  مختلف نشریاتی اداروں کے درمیان “ٹی-وی ریٹنگ” کی جنگ میں شدت آجاتی ہے، اور وہ خصوصی پروگراموں کے ذریعے عوام کو، اپنی جانب مبذول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ متنازعہ مذہبی میزبان اور سابق سیاستدان عامر لیاقت پاکستان کے سب سے مشہور نشریاتی ادارے جیو ٹی-وی پر واپس آگئے ہیں۔  جبکہ، مزاحیہ اداکارہ اور ماڈل وینا ملک کا پروگرام ‘استغفار’ نشر ہی نہ ہوسکا۔

لیکن تازہ ترین تنازعہ ایک خصوصی رمضان پروگرام کے بارے میں ہے، جس میں میزبان مایا خان نے ایک مذہبی عالم کو پروگرام میں دعوت دی تھی۔ ان کا مقصد سونیل نامی ایک ہندو بچے کو مسلمان کرنا تھا۔ قبولِ اسلام کا پورا عمل براہ راست نشر کیا گیا تھا۔

اس براہ راست نشر ہونے والے پروگرام نے پاکستان میں میڈیا کی اخلاقیات، مشہوریت کی بنا پر ہونے والے پروگراموں اور گھنٹوں لمبے اشتہارات  کے بارے میں ایک بحث چھیڑ دی ہے۔

اس ویڈیو میں مایا خان مذہبی عالم کا تعارف کرواتی ہیں۔ بعد از آں، وہ ہندو بچے سے معلوم کرتے ہیں کہ وہ کیوں اسلام قبول کرنا چاہتا ہے؟ سونیل جواب دیتا ہے، “میں انصار برنی ٹرسٹ (انسانی حقوق کی تنظیم) میں کام کرتا ہوں اور مجھے اس ماحول میں کام کرنا اچھا لگتا ہے۔”

جب مولوی صاحب کو صحیح جواب نہیں ملا، تو انھوں نے دوبارہ سوال کیا کہ وہ کیا چیز تھی جس وجہ سے آپ اسلام کی طرف راغب ہوئے۔ سونیل کا جواب تھا، “میں پچھلے دو سالوں سے رمضان میں روزے بھی رکھ رہا ہوں۔”

پھر عالم نے پوچھا کہ آیا آپ کسی جبر کے تحت اسلام قبول کررہے ہیں؟ نوجوان سونیل نے جواب دیا، “مجھ پر کوئی دباو نہیں ہے۔ میں اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔” [ویڈیو دیکھیے ۰۱:۰۰ منٹ سے لے کر ۰۱:۲۵ منٹ تک]

پھر عالمِ دین لڑکے کا مذہب بدلتے ہیں، اور اس کے بعد دعا اور خطبہ ہوتا ہے۔ ٹی-وی کیمرا پورے کمرے کی ویڈیو بناتا ہے، کمرے میں کچھ نوجوان لڑکے، عورتیں، اور دوسرے عالمِ دین نظر آرہے ہیں۔

پروگرام کے نشر ہونے کے بعد، انصار برنی، جو ایک نامور انسانی حقوق کے کارکن ہیں، سونیل ان کے ادارے میں ملازمت بھی کرتا ہے، انھوں نے ٹوئیٹر پر لکھا کہ سونیل کا مذہب ‘جبر کے تحت’ تبدیل کروایا گیا ہے۔ انھوں نے اپنے بھائی، سارم برنی کو بھی نوکری سے فارغ کردیا کیونکہ وہ بھی سونیل کے ساتھ پروگرام موجود تھے:

@AnsarBurney (Ansar Burney): My staff Sunil is a young man, who I was informed was forced to convert, though it seems now the actions were not by ARY TV.

@انصار برنی: میرا ملازم سونیل ایک نوجوان بچہ ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس کا مذہب جبر کے تحت تبدیل کروایا گیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے اے-آر-وائے ٹی-وی (ARY TV) ملوّث نہیں ہے۔

برنی نے ٹوئیٹر پر مزید لکھا کہ وہ اس معاملے کو عدالت تک لے کرجائیں گے:

@AnsarBurney (Ansar Burney): The ‘Burney Legal Solicitors’ London is going to send legal notice to Anchor Maya Khan and TV owners of 10 million sterling pounds.

انصار برنی@: ‘برنی لیگل سولسٹرز’ لندن [انصار برنی کی وکالتی تنظیم کا نام]  میزبان مایا خان اور ٹی-وی مالکان کے خلاف قانونی نوٹس جاری کرے گی، جس کی مالیت ہے ایک کروڑ پاؤنڈ۔

حال ہی میں مایا خان کو جیو ٹی-وی کے سب سے بڑے رقیب اے-آر-واے نے رمضان کی خصوصی نشریات کے لیے ملازمت پر رکھا ہے۔ ان کو اس ہی سال ایک اور نجی  چینل، سماء ٹی-وی، نے عوامی دباو کے پیش نظر نوکری سے فارغ کردیا تھا۔ اس شدید عوامی دباو کی وجہ ان کا کراچی کے ایک عوامی پارک سے نشر ہونے والا پروگرام تھا، جس میں انھوں نے ‘اخلاقی شرطہ‘ کا روپ دھار کر دو نوجوانوں کی ذاتی زندگی میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی۔

ٹوئیٹر پر لوگوں نے مندرجہ ذیل تاثرات دیے ہیں:

@TahaSSiddiqui (Taha Siddiqui): #MayaKhan is bk to her intolerance cuz she has audience, sponsors and a broadcaster for her show. We need to hold them responsible too!

@طاحہ صدیقی: #مایا خان واپس اس لیے آگئی ہیں کیونکہ ان کو سننے والے لوگ موجود ہیں، ان کے پاس اسپانسر بھی ہیں اور نشریاتی ادارہ بھی۔ یہ تمام ادارے اور لوگ اس جرم میں برابر کے شریک ہیں!

@NadeemfParacha (Nadeem F. Paracha): Breaking Wind News: Maya Khan kisses an infidel and turns him into a believing frog.

@ندیم پراچہ:ہوائی شہ سرخی: مایا خان نے ایک کافر کو بوسہ دیا اور وہ ایک مومن مینڈک بن گیا۔

الیکٹرانک میڈیا کی دن دگنی رات چوگنی ترقی کی وجہ سے مذہبی ٹی-وی پروگراموں میں بھی خوب اضافہ ہوا ہے:

@ammarakh (Ammara Khan): #MayaKhan live converting a non-muslim boy to Islam. Shame on our channels for their endless theatrics in the name of religion.

@امارہ خان: #مایا خان نے براہ راست ایک غیر-مسلم لڑکے کو مسلمان کیا۔ ان چینلز کو شرم آنی چاہیے جو مذہب کے نام پرنا ختم ہونے والے ڈرامائی ناٹک کرتے ہیں۔

فاروق ترمذی ایکسپرس تریبیون بلاگ پر اس تبدیلِ مذہب کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہیں:

The first is this: being happy about somebody converting to Islam means that you fundamentally believe that the person’s previous religion is inferior to Islam. Here is my question to all those Muslims who get excited about religious conversions: how much do you know about other religions of the world? How much do you know about your own religion? Do you even know why you are Muslim?

پہلی بات  یہ ہے کہ، اگر آپ کسی کے تبدیلِ مذہب پر خوش ہیں تو اس کا مطلب ہےکہ آپ اس شخص کے پچھلے مذہب کواسلام سے کمتر سمجھتے ہیں۔ میرا ان تمام مسلمانوں سے سوال ہے جو مذہب بدلنے کے حوالے پر بہت جذباتی ہوجاتے ہیں: آپ کو دنیا کے دوسرے مذاہب کے بارے میں کتنی معلومات ہے؟ آپ کو اپنے مذہب کے بارے میں کتنی معلومات ہے؟ کیا آپ کو اتنا بھی معلوم ہے کہ آپ مسلمان کیوں ہیں؟

ترمذی آئین پاکستان پر بھی تنقید کرتے ہیں جو مسلمانوں کی دوسرے مذاہب میں تبدیلی کے خلاف ہے:

This brings me to my second problem: how a lot of fundamentalist Muslims are utterly convinced of the superiority of Islam – and seek legal codification of that superiority in Pakistan – while demanding equal treatment in other countries. Sunil converting to Islam was perfectly legal, but what if a born Muslim wants to convert to another faith? Why is that illegal under Pakistani law?

اب میں اپنے دوسرے مسئلے کی طرف آتا ہوں: بنیاد پرست مسلمان اسلام کی سربلندی کے بارے میں مکمل یقین رکھتے ہیں – اور اس بڑای کو وہ قانون میں لکھوانا چاہتے ہیں – اور دوسرے ملکوں سے بھی برابری کے سلوک کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سونیل کا مذہب اسلام قبول کرنا مکمل طور پر قانونی ہے، لیکن کیا مسلمان کو اپنا مذہب تبدیل کرنے کی اجازت ہے؟ مسلمان کے کسی اور مذہب کو قبول کرنے پر پاکستانی قانون میں ممانیت کیوں ہے؟

فرزانہ وارثی اپنے بلاگ کراس-کنیکشن (Cross-Connection) میں ایسے پروگراموں کی حقیقت کے بارے میں لکھتی ہیں:

These are all circus acts, and one does not expect better from reality television and that includes news channels. Part of the hot air is possibly because this is a competitive game, where ethics are the flakes of pistachio on the phirni, not an ingredient. This is borne out by the fact that the editorial is worried about how just to spice things up ‘religion is now fair game too’.

یہ سرکس کے ڈرامے سے زیادہ کچھ نہیں ہے، اور لوگوں کو نیوز چینلز سے کسی بہتری کی امید نہیں کرنی چاہیے۔ کچھ مرچ مسالا ٹی-وی پروگراموں میں مقابلے کی وجہ سے ہے، جہاں اخلاقیت کی کوئی کلیدی اہمیت نہیں۔ ایسا صرف اس لیے ہے کیونکہ ادارتی ٹیم خبر میں صرف مبالغہ بازی اور مرچ مسالے کے بارے میں سوچتی ہے۔ اب انھوں نے اس مرچ مسالے میں مذہب کو بھی شامل کرلیا ہے۔

اس مضمون میں استعمال ہونے والی تصویر یوٹیوب کی ایک ویڈیو سے لی گئی ہے۔ اس ویڈیو کو یوٹیوب صارف انڈین صدف نے انٹرنیٹ پر ڈالا تھا۔

بات چیت شروع کریں

براہ مہربانی، مصنف لاگ ان »

ہدایات

  • تمام تبصرے منتظم کی طرف سے جائزہ لیا جاتا ہے. ایک سے زیادہ بار اپنا ترجمہ جمع مت کرائیں ورنہ اسے سپیم تصور کیا جائے گا.
  • دوسروں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں. نفرت انگیز تقریر، جنسی، اور ذاتی حملوں پر مشتمل تبصرے کو منظور نہیں کیا جائے.