وں پر سب کی رسائی ہو سکےتمام زبانوں کی فہرست دیکھیں جن میں گلوبل وائسز پر ترجمہ کیا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر کی کہانیا

ویڈیو جھلکیاں: شام میں احتجاج، بچوں کے مسائل اور ڈولفن اموات

ویب سائٹ کے اس حصے کا مقصد گلوبل وائسز پر موجود حالی میں شائع ہوئی دلچسپ ویڈیو دیکھانا ہے اور کس طرح ویڈو کی مدد سے لوگ اپنی کہانیاں سنارہے ہیں۔ مذید معلومات کے لیے آپ ہمارا یوٹیوب صفحہ دیکھ سکتے ہیں۔

مندرجہ ذیل مضامین کا تعلق شام میں ہونے والے مظاہروں(۲۰۱۱/۱۲) سے ہے، افسوسناک امر یہ ہے کہ شام میں کئی بلاگرز اور سرگرم  احتجاجیوں کو نظربند کردیا گیا ہے۔

شام: علی محمد عثمان، ‘بابا عمر کی آنکھیں'، نظربند:

ویڈیو کے ذریعے احتجاج ریکارڈ کرانے والے سرگرم کارکن، علی محمد عثمان، کو شامی حکومت نے نظربند کردیا تھا۔ عثمان جو بابا عمر کے میڈیا دفتر کے سربراہ ہیں، پیشے کے لحاظ سے سبزی فروش تھے جو حمس کے شہر میں  انقلاب کے شروع ہونے کے ساتھ ہی  اس انقلاب سے وابستہ ہوگئے اور بھر اس ہی کا حصہ بنے رہے۔ ان کی نظربندی شام میں عوامی صحافت کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا ہے ۔ بابا عمر کے دفتر میں موجود دوسرے کارکن اب خطرے میں ہیں۔

مندرجہ ذیل ویڈیو[عربی]  میں عثمان، جو ‘بابا عمر کی آنکھیں’ کے لقب سے مشہور ہیں، بابا امر کے عوام کی پریشانیاں دنیا کو بتارہے ہیں۔ وہ بلا جہجک کیمرے کے سامنے موجود ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ  اگر دنیا ان کا چہرہ دیکھے گی تو ان کا پیغام زیادہ موثٔر ہوگا:

شام: دمشق میں سرگرم کارکن ریما دالی خون ریزی رکھنے کے الزام میں زیر حراست

اتوار ۸ اپریل، ۲۰۱۲ سے منگل ۱۰ اپریل،۲۰۱۲ تک ریما دالی کو نظربند رکھا گیا۔ ان کے ساتھ موجود سرگرم کارکن سفاّنہ بقلہ اور آسیم حمشو اب تک لاپتہ ہیں۔

“خون ریزی بند کرو۔ ہم کو ایک ایسا شام تعمیر کرنا ہے جو سب کے لیے یکساں ہو۔” ریما دالی کے بینر پر یہ جملے نوشت تھے جب وہ اتوار (۸ اپریل) کو دمشق میں شام کی پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کررہی تھیں۔ دوسرے مظاہرین کہتے ہیں کہ ان کو اس احتجاج کے فوراً بعد گرفتار کرلیا گیا تھا۔ مندرجہ ذیل ویڈیو میں بہادر ریما دالی کو گاڑی کے سامنے بینر پکڑی دیکھی جاسکتی ہیں، جبکہ دوسری خواتین اظہارِ یکجہتی کے لیے تالیاں بجارہی ہیں۔

دو اور سرگرم کارکن، علی دھنا اور حسوم ذعین ،  جنہیں ۱۰ اپریل ۲۰۱۲ کو گرفتار کیا گیا۔ وہ بھی یہی بینر پکڑے دمشق میں قصرِ العدلی کے قریب احتجاج میں موجود تھے۔

جنوبی ایشیا اور مشرقی ایشیا

ویڈیو: چین اور بھارت میں عورتوں کی جنس کشی اور طفل کشی

بھارت اور چین میں، ثقافتی وجوہات کی بنا پر بچوں کو بچیوں پر ترجیح دی جاتی ہے جس کی وجہ سے  وہاں جنسی عدم توازن کی صورت حال قائم ہوگئی ہے۔ ان کا سبب وہاں موجود لڑکیوں کی طفل کشی اور شعوری طور پر اسقاط حمل گروانا ہے۔ اس موضوع پر کئی ویڈیو، دستاویزی فلمیں، حتی کہ گانے تک بنائے گئے ہیں تاکہ اس مسَلہ کے اثرات سے لوگوں کو آگاہ کیا جائے: وہ لڑکیاں جنہیں عاق کردیا گیا ہے، وہ عورتیں جنہوں نے اسقاط حمل گروایا ہے یا اپنی بچی کو کسی کے سپرد کردیا ہے، وہ خواتین جو سماجی اور معاشی مسائل کے باوجود لڑکیوں کو پالتی ہیں اور وہ لوگ جو اس صورت حال کو بدلنا چاہتے ہیں۔

دنیا کے تین خطرناک ترین الفاظ” کے مطلع کے ساتھ، “لڑکی ہوئی ہے”ایک ایسی دستاویزی فلم ہے جو اس سوال کا جواب تلاش کررہی ہے کہ بھارت و چین میں۲ کروڑ لڑکیاں ‘غائب’ کیوں ہیں اور اس مسئلہ پر کوئی خاطر خواہ اقدام کیوں نہیں لیے گئے۔ دستاویزی فلم میں انٹرویوز شامل کیے گئے ہیں اور آن لوکیشن فلمینگ[انگریزی تشریح] کی ترقیب کو استعمال کیا گیا ہے۔

لاطینی آمریکا

مکسیکو: جنگل میں آگ کی طرح پھلتی ہوئی ایک ویڈیو نے صدارتی مہم کو ہلا کررکھ دیا

مکسیکو میں صدارتی مہم کے دوران ایک ویڈیو[ہسپانی] آگ کی طرح پھیلی جس میں بچوں کو ایک ایسے شہر میں زندگی گزارتے دیکھایا گیا ہے، جہاں چوری، تشدد، کرپشن، اغوا کی ورداتیں عام ہوں۔ مکسیکو کے عام رہائشی صدارتی امیدواروں سے استفسار کررہے ہیں کہ وہ اس صورت حال کو بدلیں اور ایک بہتر مستقبل کی یقین دہانی کروائیں۔

اس ویڈیو پر مختلف ردعمل دیکھئے گئے۔ کچھ لوگ اس امر سے اتفاق کرتے ہیں کہ حقیقت ایسی ہی ہے اور ویڈیو کو اس حقیقت کا مظہر سمجھتے ہیں۔ جب کہ چند لوگوں کے لی یہ کھوج زیادہ اہم ہے کہ یہ ویڈیو کس نے بنائی ، یہ لوگ سیاسی معاملات میں معصوم بچوں کے استعمال پر تنقید کرتے ہیں۔

Si éste es el futuro que me espera, no lo quiero. Basta de trabajar para sus partidos y no para nosotros. Basta de arreglar el país “por encimita”. Doña Josefina, don Andrés Manuel, don Enrique, don Gabriel, se acabó el tiempo, México ya tocó fondo. ¿Sólo van a ir por la silla o van a cambiar el futuro de nuestro país?

اگر یہی مستقبل ہے تو مجھے ایسا مستقبل نہیں چاہیے۔ اپنی جماعت کے لیے کام نہ کریں، ہمارے لیے کریں۔ ملک کو صرف ظاہری طور پر صحیح مت کریں۔ محترمہ جوسافین، جناب آندرے مانول، جناب اندیک، جناب جبرائیل، وقت ختم ہوچکا ہے، مکسیکو پستی پر ہے۔ کیا آپ صرف صدارتی کرسی کے لیے لڑرہے ہیں یا واقعی آپ لوگ ملک کے مستقبل کو بدلنا چاہتے ہیں؟

پرو: ڈولفن کون مار رہا ہے؟

پرو کے جنوب میں ۱۳۵ کلومیٹر طویل ساحلی پٹی پر ۶۲۵ ڈولفنز کی موت ایک شہ سرخی بن گئی ہے۔ اس خبر پر بین الاقوامی انجمن نے گہری  تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہادتوں اور دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ سیسمکا تھری-ڈی جو گہری سمندر میں تیل اور گیس کی کھوج کرتی ہے اس اموات کی ذمہ دار ہے۔ اس کھوج کے اثرات نومولود، جوان، دودھ دینے والی مادہ، حاملہ مادہ اور بالغ نر و مادہ ڈولفنز میں دیکھے گئے ہیں۔ اس مضمون کے لنکس عام طور ہر ہسپانی زبان میں  لکھے مضامین کی طرف جاتے ہیں۔

Dolphin and baby by Vincent Teeuwen CCBy

ڈولفن اور اس کا طفل، تصویر از ونسنت تیون سی سی بی وائے

بلو وائس [انگریزی] کے بانی، فلم ساز اور آبی حیات کے سماجی کارکن حارڈی جونس نے ڈاکٹر یے پاں لنوس [Yaipén-Llanos] کی پہلی دستاویز پڑھنے ۲۵ مارچ کو پرو گئے۔ ۲۷ مارچ کو پرو کے شمالی ساحل پر انھوں نے ٹیوئیٹر پر لکھا:

سین جوس کے شمال میں پرو کے ۱۳۵ کلومیٹر طویل ساحل پر ۶۱۵ #ڈولفن ملی ہیں۔ یہ سانحہ ناقابل بیان ہے۔ آپ بھی اس کو ٹیوئیٹر پر لکھیں۔ اس کی تحقیق ضروری ہے۔

 

اسی دوران محولیات کے وزیر اور ماہی گیری کے وزیر ۱۰ اپریل کو آپس میں ملے [ہسپانی] ہیں تاکہ تیل کی کھوج اور ڈولفن کی اموات میں ربط سمجھا جاسکے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ آبی حیات کے تحفظ کیلیے وہ کیا اقدام کررہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً ۲۰،۰۰۰ ڈولفنز اور دوسری آبی حیات خطرے میں ہیں۔  اس کے علاوہ پرو کی ساری ساحلی پٹی پر سیسمکا تھری-ڈی کے اثرات جاچنے کی منصوبہ بندی[ہسپانی] بھی کی جارہی ہے۔

اس ویڈیو کے پیش کار، حالی میں پرو کے ساحل سے واپس آئے ہیں۔ بلو وائس، اورکا (پرو)[انگریزی] کے ساتھ مل کر اس ۱۳۵ کلو میڑ طویل ساحل پر کام کررہے ہیں۔ اب تک ہم نے ۶۱۵ ڈولقن تلاش کی ہیں۔  اورکا کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کارلوس یے پاں لنوس نے  کئی مردہ جانوروں کا پوسٹ مارٹم بھی کیا۔

بات چیت شروع کریں

براہ مہربانی، مصنف لاگ ان »

ہدایات

  • تمام تبصرے منتظم کی طرف سے جائزہ لیا جاتا ہے. ایک سے زیادہ بار اپنا ترجمہ جمع مت کرائیں ورنہ اسے سپیم تصور کیا جائے گا.
  • دوسروں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں. نفرت انگیز تقریر، جنسی، اور ذاتی حملوں پر مشتمل تبصرے کو منظور نہیں کیا جائے.