وں پر سب کی رسائی ہو سکےتمام زبانوں کی فہرست دیکھیں جن میں گلوبل وائسز پر ترجمہ کیا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر کی کہانیا

پاکستان: کراچی میں تشدد کا عروج

اس صفحہ پر تمام بیرونی لنکس انگریزی زبان میں ہیں۔

کراچی میں نہ رکھنے والی خون ریزی نے اب تک ۳۰۰ سے زائد  لوگوں کی جان لے لی ہے۔  تشدد کے حالیہ واقعات ایم-کیو-ایم کے کارکن، جناب منصور مختور، کے قتل کے بعد شروع ہوئے۔  منصور مختور کا تعلق کراچی کی سب سے بڑی جماعت - متحدہ قومی موومنٹ- سے تھا۔ اگلے ہی دن، یعنی ۲۸ مارچ ۲۰۱۲، کو اے-این-پی (عوامی نیشنل پارٹی) کے کارکن، جناب ذین العآبدین، کو نامعلوم دہشت گردوں نے قتل کردیا۔

ان ہلاکتوں اور شہر میں ہونے  والی بھتہ خوری کے واقعات اور ٹارگٹ کلینگ کے حادثات نے شہر کی فضاء کو دھندلہ کردیا ہے۔ ڈان اخبار نے عمدگی کے ساتھ ، شہر میں ہونے والے ان تمام واقعات کا خلاصہ کیا ہے۔

اہم ترین سوال یہ ہے کہ کراچی میں تشدد واپس کیوں آجاتا ہے؟ پچھلے سال شہر میں ۱۱۷۵ لوگ لقمہءاجل بنے۔ اس خون ریزی کی کئی وجوہات ہیں: ۔

عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن کے قتل کے بعد رینجرز کا شہر میں گشت۔ حق اشاعت: ڈی موٹکس

 

 اول: شہر کئی بنیادوں پر تقسیم ہوچکا ہے۔ مثلاً، نسلی، علاقی،  لسانی اور فرقے۔ اس کے بعد، تقسیم در تقسیم کا عمل شروع ہوتا ہے۔ ان تقسیموں کی وجہ سے ایک ‘جنگ’ کی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ مختلف گروپوں کے مختلف مفادات ہیں۔  طاقت کا حصول ایک فطری جبلت ہے اور تشدد شروع کرنے کے لیے صرف ایک چنگاری کی ضرورت ہوتی ہے۔  پچھلے چار ماہ میں ، کراچی نے پاکستان میں سب سے زیادہ سیاسی ریلیوں کی میزبانی کی۔ مثلاً، تحریک انصاف پاکستان کی ریلی، ایم- کیو-ایم خواتین ونگ کی ریلی، دائیں بازو کی دفاعِ پاکستان، جے-یو-آی اور دفاع تشیع کی ریلیاں اور آخر میں سندھی قوم پرست جماعت جسقم کی ریلی۔  یہ تمام ریلیاں، اس چیز کی علامت ہیں کے شہر نظریاتی   طور پر کتنا تقسیم ہوچکا ہے۔

دوم: سیاسی جماعتوں پر اسلحہ لیس گرو رکھنے کے الزامات ہیں۔ اچ-ار-سی-پی (پاکستان میں انسانی حقوق کی کمیٹی) کے مطابق، کراچی میں ہر بڑی سیاسی تنظیم کی زاتی ملیشا (رضا کار فوج) موجود ہے۔ وہ اس ملیشا کو اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ گروہ معاشرے کو مذید تقسیم کرتے ہیں اور تشدد میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔ پچھلے سال، اعلیٰ عدلیہ نے ان تمام ملیشا کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلہ پر اب تک عمل نہیں ہوسکا۔

سوم: گنجان آبادی اورمنصوبہ بندی کا فقدان۔ شہر کی آبادی ۵ لاکھ (۱۹۴۷) سے ۵۰ لاکھ (۱۹۷۰ کی دہائی) تک جا پہنچی ہے۔ آج کراچی کی آبادی ۲ کڑور ہے۔ دوسری طرف، اس بڑھتی ہوئی آبادی کو سنبھالنے کے لیے کوئی  منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ ان دو وجوہات کی وجہ سے لوگوں کی معاشی حالت بہت خراب ہوگئی۔ ان حالات کا جرائم  پیشہ گروہ خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔

گنجان آبادی کے اثرات کو پرویز ہودبائی مچھلیوں کی تمثیل سے سمجھاتے ہیں۔  ایک تحقیق کے مطابق، مچھلیوں کے دو نضب العین ہوتے ہیں: ۱) تلاب  کے اندر اپنے علاقے میں اضافہ، اور ۲) تلاب  میں طبعی مسکن کا اضافہ (یعنی چھپنے کی جگہ، مثلاً پتھر اور پودے)۔  جب مچھلیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے تو ان کے انفرادی علاقے میں کمی آتی ہے، اس لیے جارحیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

ہودبائی کے مطابق، کراچی کی صورت حال اس سے مختلف نہیں۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ، شہر کا بنیادی ڈھانچا خراب ہوتا جارہا ہے۔۔  وہ اقبال احمد کا حوالہ دیتے ہیں، جن کے مطابق:۔

کراچی کو اپنے ہی وسائل میں سے کوئی خاص حصہ نہیں ملتا۔ یہ شہر وفاق اور سندھ کے بجٹ کا ۶۰ فیصد حصہ فراہم کرتا ہے، لیکن زر کا بہت معمولی سا حصہ شہر میں دوبارہ خرچ کیا جاتا ہے۔ طاقت کی حسد نے شہر کے حالات اور خراب کردیے ہیں۔

پانچ لاشیں بازیاب ہونے کے بعد لوگوں کا گھر کے باہر رش۔ تصویر از پی-پی-ائی۔

پانچ لاشیں بازیاب ہونے کے بعد لوگوں کا گھر کے باہر رش۔ تصویر از پی-پی-ائی۔ حق اشاعت: ڈی موٹکس

 

شہر کے عام لوگ اس صورت حال سے انتہائی مایوس ہیں۔ نوجوان مستقبل میں کسی مثبت تندیلی کی امید نہیں کررہے، نامیدی کا سایہ ان کی باتوں میں عیاں ہے۔ اب صرف خدا سے ہی آس باقی ہے۔  نوجوانوں نے کراچی میں حالیہ سورش پر مندرجہ ذیل خیالات دیے:۔

نٹاشہ فیصل کہتی ہیں:۔

میں جب اپنے گرد دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ ہم اتنے گروہوں میں تقسیم ہونے کے بعد کس طرح ترقی کرسکتے ہیں۔  مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہم اتنے بےحس کیوں ہوگئے ہیں کہ ہم اپنے ہم شہریوں کی ہلاکتوں پر سوگ بھی نہیں مناتے۔

ماریہ خان کی رائے میں:۔

جس قدر خون ریزی ہم نے حالیہ دنوں میں کراچی میں دیکھی ، اس سے تو یہ لگتا ہے کہ شہر راکھ میں تبدیل ہوجائے گا۔

مالیکہ نیازی کہتی ہیں:۔

اب ہم صرف کراچی کے لیے دعا ہی کرسکتے ہیں۔ لوگ مر رہے ہیں اور یقیناً گلیوں میں بغیر اسلحے کے گھمنا محفوظ نہیں۔

ٹیوئیٹر اور فیس بوک پر لوگوں نے ناامیدی کا اظہار بھی کیا اور حکومت کی ناکامی پر تنقید بھی جو اس تشدد کو روکنے میں ناکام رہی ہے:۔

جاوید حسین: تشدد نے کراچی کو پھر اپنے گرداب میں لے لیا ہے۔ آج میں نے چند گنڈوں کو گلستانِ جوہر کے علاقہ میں ایک منی بس جلاتے ہوئے دیکھا، جبکہ شہر کے مختلف علاقوں، بشمول بلدیہ ٹائون ، معصوم لوگوں کے قتل کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔

@پارس عباسی: آج میں نے ایک عجیب خواب دیکھا کہ میں اور میرا دوست دوائیں خریدنے گئے اور راستہ میں ٹارگٹ کلنگی کا شکار ہوگئے۔ (#کراچی خون ریزی)۔

ندیم پراچہ کراچی کے اصل دہشت گردوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں:-

@ندیم پراچہ : آج اخبار میں کراچی کے تشدد پر کئی خبریں ہیں پر کسی خبر میں قاتل کا نام نہیں

حکومت کو لازماٗ حرکت میں آناچائیے۔ جعفری لکھتے ہیں:

@جعفری : #کراچی میں خون ریزی رکھنے کے لیے حکومت کو لازماً موزوں حکمت عملی پر عمل کرنا ہوگا

1 تبصرہ

  • کراچی میں رہتے ہوۓ مجھے اب یہ محسوس ہوتا ہے کہ میرا جینا مرنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اور شاید مجھ سے بہت زیادہ اہم لوگ ہوں گے جن کی دنیا کو شدید ضرورت ہے، اُن کا زندہ رہنا زیادہ ضروری ہے۔ الغرض کہ میں کراچی میں اب خود کو محفوظ سمجھتا ہی نہیں، بالکہ جیسا میں نے کہا کہ میں اپنے خالقِ حقیقی سے ملنے کے لیۓ تیار رہتا ہوں۔

بات چیت میں شریک ہوں

براہ مہربانی، مصنف لاگ ان »

ہدایات

  • تمام تبصرے منتظم کی طرف سے جائزہ لیا جاتا ہے. ایک سے زیادہ بار اپنا ترجمہ جمع مت کرائیں ورنہ اسے سپیم تصور کیا جائے گا.
  • دوسروں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں. نفرت انگیز تقریر، جنسی، اور ذاتی حملوں پر مشتمل تبصرے کو منظور نہیں کیا جائے.