وں پر سب کی رسائی ہو سکےتمام زبانوں کی فہرست دیکھیں جن میں گلوبل وائسز پر ترجمہ کیا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر کی کہانیا

جنوبی افریقہ : سداراتمک عصمت دری ایک نفاق جرم ہے

سداراتمک عصمت دری ایک جرم کی مشق ہے، جہاں آدمی ہم جنس پرست عورتوں کی عصمت دری کرتے ہیں،عورت کی جنسی واقفیت کے منشا کے طور پر ایک “علاج” کے لیے۔ اس کے باوجود جنوبی افریقہ جنسی طور پر واقفیت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کو قانون سے بالاتر کرنے میں، زمین پر پہلی قوم ہے۔افریقہ سب سے پہلا ملک جس نےہم جنس کے نکاح کو قانونی ٹھیرایا اور دنیا کا پہلا جمہوریہ جس نے ایل جی بی ٹی شہریاں کو زندگی کی تمام ریاستوں میں مساوی حقوق کی ضمانت دی (بشمول تسلیم کرنے اور فوجی سروس)، اصلاحی عصمت دری کے واقعات میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔

لولیکی سزوے ایک ساؤتھ افریکن سخاوت ہے۔ جوکہ، اصلاحی عصمت دری سے زندہ بچ جانے والوں کی صحت کی حمایت ،مدد اور پرورش کا کام کرتاہے ۔لولیکی سزوے 2007 میں ایک کمیونٹی کارکن نڈومی فونڈا نے اپنی منگیتر کے اصلاحی زیادتی کا شکار ہونے کے بعد قائم کیا ۔

لولیکی سزوے کے مطابق کیپ ٹاؤن میں ہر ہفتے کم سے کم 10 گینگ ریپ ہوتے ہیں:

ایک تنظیم کے مطابق،صرف کیپ ٹاؤن کے شہر میں ہر ہفتے 10 سے زیادہ لیسبیوں کا ریپ یا گینگ ریپ ہوتا ہے۔ ساؤتھ افریکہ میں ہر روز 150 عورتوں کا ریپ کیا جاتا ہے۔ اور پچھلی دہائی میں 31 لیسبیوں کو انکی جنسیت کی وجہ سےقتل کر دیا گیا۔ ساؤتھ افریکہ میں 510 عورتیں ہر سال اپنے ‘اصلاحی عصمت دری‘ کا شکار ہونے پر رپورٹ کرتی ہیں۔

لولیکی سزوے نےجنوبی افریقہ کے وزیر انصاف جعفری رعدیب کی ھدف بندی کے لیے چینج۔او آر جی پر ایک پٹیشن کی تخلیق دی۔ جنوبی افریقی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہ وہ اعلان کریں کہ ‘اصلاحی عصمت دری‘ ایک نفاق – جرم ہے۔ جو کہ بہت ہی تلخ سزا کے قابل ہے! لکھنے کے وقت 63994 دستخط تھے۔ پیٹیشن چینج۔او آر جی تمام وقتوں کی پیٹیشن۔ بہت زیادہ مقبول ہو گئی۔

چینج۔او آر جی تمام وقتوں کی پیٹیشن اب بہت زیادہ مقبول ہے! لیکن اس کے جواب میں وزیر نے کیا کیا ہے؟ بالکل کچھ نہیں۔ یہ تبدیل ہونے کو ہے، مسٹر رعدیب کو ایک نئی پیٹیشن لولیکی سزوے کے بانی نڈومی فونڈا سے ملاقات کے لیے بلانا۔'اصلاح عصمت دری’ کی مہم پر باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کے لئے براہ مہربانی انسانی حقوق فیس بک اور ٹویٹر کے صفحات کو ‘لائیک'کریں۔ اور بلا ناغہ چیک کرنے کی کوشش کریں۔

یہ یقین ایک بڑے پیمانے پر پھیلا ہوا ہے کہ ہم جنسیت غیر افریکن ہے اور اسے ختم ہوناچاہیے:

تاہم، یہ یقین ایک بڑے پیمانے پر پھیلا ہوا ہے کہ ہم جنسیت ’غیر افریکن‘ ہے؛ ’غیر افریکن‘ کے دعوے کرنا ایک اخلاقی اور ثقافتی منظر کو چھپاتا ہے۔ کہ افریقی معاشرا کسی نہ کسی طرح منفرد اور مدافعتی ہے۔جسے ایک مغربی اور یورپی درآمد کے لئے سمجھا جاتا ہے۔کئی افریقی رہنماؤں کی طرف سے گزشتہ سالوں کے دوران ہم جنس پرستی کی منظم طریقے سے بدنامی کے تصورات کو ہوا دی گئی،جو گہری ثقافت اور روایات پر مبنی ہیں

اوڈی سائملین،جنوبی افریقہ کی قومی فٹ بال ٹیم میں ایک فٹ بال اسٹار، کا 2008 میں گینگ ریپ اور قتل کر دیا گیا۔ ٹھاتو پیتھی اپنے کیے پر شرمندہ تھا اور اسے 32 سال کی قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ مقدمہ اصلاحی عصمت دری کے خلاف سب سے زیادہ کامیاب مقدمات میں سے ایک تھا :

ہم جنس پرست کارکنوں اور سابقہ بنیانا بنیانا کھلاڑی اوڈی سائملین، قتل کے مقدمہ میں طویل انتظار کے فیصلے کا نتیجہ آج ڈیلما میں دیا گیا۔ حبولین موگاگولہ، جوہانس ماھانگو، اور تھیمبا ووبوکو اتیجک حالات سے ڈکیتی کے الزام کا سامنا کرنا پڑا، عصمت دری اور سائملین کاقتل۔ ٹھاتو پیتھی کو فروری 2009 میں ایک ہی طرح کے جرائم کے لیے 32 سال کی قید کی سزا ایک ہی طرح کی پاداش میں دی گئی ۔

جنوبی افریقہ کے انصاف کے نظام پر مجرموں کو مضحکہ خیز کم ضمانت پر رہا کر دینےکا اور متاثرین کی ناکامی کا الزام ہے:

گزشتہ ماہ جنوبی افریقہ کے حکام نے اینڈائل نگوزا کو چھوڑ دیا۔ایک شخص جس نے عصمت دری کی، ملی سنٹ گائیکا (تصویر) کو مارا اور پانچ گھنٹے کے لیے ‘اس سےبراہ راست رجوع'، کے لیے اسکا دم گھوٹ دیا۔ ایک کیس جسکا چینج۔ او ار جی نے بہت اچھا احاطہ کیا۔ مسٹر نگوزا کو آر 60 کی ضمانت پر رہا کر دیا گیا، جو کہ $10 سے بھی کم کے برابر ہے۔ اس سے نڈومی فونڈا کی رہنمائی ہوئی، جس نے ملی سنٹ گائیکا کی عصمت دری سے باہر نکلنے میں مدد کی اور اسکے کیس کی وکالت کی، پوشیدگی میں جانے کے لیے۔

لسیگو تھوالے بحث کرتا ہے کہ اصلاحی عصمت دری میں عورت کو برہنہ کرنا اسکے بنیادی حقوق کا چھن جانا ہے۔جو کہ بین الاقوامی قوانین میں شامل ہیں:

جنوبی افریقہ کو پہلے ہی لیسبی عورتوں کے خلاف، خلاف ورزی کی ایک وبائی کی طرف سے خطرے کا سامنا ہے۔ جو کہ اصلاحی عصمت دری کہلاتا ہے۔خلاف ورزی کی اس فارم کو صنف مخالف کے اراکین کی طرف سے عورتوں پر ظلم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ان کی جنسی واقفیت کو ‘درست’ کرنے کے لیے۔یہ بہت ہی برا عمل نہ صرف عورتوں کی بے حرمتی کرتا ہے بلکہ انہیں انکے بنیادی حقوق سے محروم بھی کر دیتا ہے۔ جو کہ انسانیت پر افریقی چارٹر، اور لوگوں کے حقوق اور دیگر بین الاقوامی قوانین میں شامل ہے۔

مائیکل جونز کا کہنا ہے کہ اس مشق کو ایک قابل نفرت جرم ہونا چاہیے :

مائیکل جونز کا کہنا ہے کہ اس مشق کو ایک قابل نفرت جرم ہونا چاہیے :
اگر یہ جملہ “اصلاحی عصمت دری” آپ کو نا موافق لگتا ہے، تو اسے لگنا بھی چاہیے۔ یہ ایک سفاکانہ تصور ہے۔ مگر کچھ سیدھے لوگ سوچتے ہیں کہ ایل جی تی بی کے لوگوں کا ”علاج“ زبردستی جنس سے ہو سکتا ہے۔جنوبی افریقہ میں اس مشق کا رجحان منعظم اور وسیع پیمانے پر ہو گیا ہے،خاص طور پر ہم جنس پرست کمیونٹی کے خلاف، اصلاحی عصمت دری کے دس نئے مریضوں کے اوپر ہر ہفتے رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ اور یہ صرف کیپ ٹاؤن کی رپورٹ ہے۔

اس بھیانک اور نیچ نوعیت کے باوجود، پھر بھی، اصلاحی عصمت دری جنوبی افریقہ میں ایک قابل نفرت جرم تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اور یہ ایک ایسی چیز ہے جسے عورتوں کی چھوٹی سی نُطفی تنظیم تبدیل کرنا چاہتی ہے۔

جنوبی افریقہ میں سداراتمک عصمت دری بنیادی طور پر سیاہ جرم پر ایک سیاہ فام ہے۔ جسے ایک چھوٹی سی حرکت سمجھا جاتا ہے،غریب بستیاں، پیٹگرفن نوٹ کر تے ہیں :

افسوس کی بات ہے، ”سداراتمک عصمت دری“ بنیادی طور پر سیاہ جرم پر ایک سیاہ فام ہے۔ جسے ایک چھوٹی سی حرکت سمجھا جاتا ہے غریب بستیوں میں جہاں بلاتکاری اور خواتین جنہیں زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے اکثر ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔بلاتکاریوں کو شاذ و نادر ہی سزا ملتی ہے
اور عورتوں کو ان کے بلاتکاری دیکھنے کے امکانات یا حملے کے بعد انکی دھمکیوں اورطعنہ تشنع کے ساتھ زندہ رہنا پڑتا ہے۔اگرچہ جنوبی افریقہ کے پاس ایک ترقی پسند آئین کے ساتھ ایل جی ٹی بی کے لوگوں کے لئے قانونی تحفظ موجود ہے ایل جی بی ٹی کے لوگوں کی طرف نفرت اور تعصب اب تک زندہ ہے اور اچھی طرح سے.

ہمیشہ کسی دوسرے کی ثقافت میں نا انصافی پر توجہ مرکوز رکھنا ایک خطرہ ہوتا ہے یہ خطرہ کسی ایک کی ثقافت کو آئینے میں دکھا کر اوراسکے ملک میں ناانصافیوں کی شناخت سے اسے ناکام کرنے کا ہے۔ تحریری طور پر میرا ارادہ جنوبی افریقہ میں “اصلاحی عصمت دری”کے بارے میں، ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں مخالف جنس پرست، تعصب کو نظر انداز کرنا نہیں ہے۔ یا اپنی توجہ کو سیاہ لوگوں کے منفی رویے کو مخالف سفید لوگوں کے منفی رویوں پر مرکوز کرنا۔

اس نے جنوبی افریقہ میں “اصلاحی عصمت” کے رجحان پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے جرمی سکاپ کی جانب سے سولہ منٹ کی ویڈیو پر ایک لنک پوسٹ کیا

جیمز قون کے مطابق،حال ہی میں جنرل امریکی فوج میں ایک امریکی فوجی نے لیسبیوں کے لیے اصلاحی عصمت دری کی تجویز پیش کی :.

کیا تم جانتے تھے کہ ہم جنس پرستی عصمت دری سے ٹھیک کی جا سکتی ہے۔ یہ سچ ہے۔ جنوبی افریقہ میں حال ہی میں امریکی فوج میں ایک امریکی فوجی جنرل نے عورت کے لئے اسی چیز کی تجویز پیش کی۔پاگلپن بند کرو۔

نومبر 2010 میں افریقی کارکن نے ملی سینٹ گائیکا کے بارے میں رپورٹ کی جس نے کورٹ میں اپنے بلاتکاری کا سامنا کیا۔

ملی سینٹ گائیکا کو ایک شخص کی طرف سےپیٹا گیا اور پانچ گھنٹے اسکی عصمت دری ہوئی اس نے اسے بتایا کہ وہ اسے ”ایک عورت میں تبدیل کرنا چاہتا ہے“۔ اس ہفتے،غیر معمولی بہادری سر انجام دیتے ہوئے، ملی سینٹ نے اپنےبلاتکاری کے سامنےعدالت میں گواہی دی.

امریکی ایوینجلسٹس کو افریقہ کا دورہ کرتے ہوئے ” اپنےمحبت کے حق کے لیے تردید کرنے کے قرار داد جُرم کے گند کوروکنا چاہیے۔“

اسی وقت میں جب تک کہ ہماری حکومت امریکہ میں ہے مساوات کے لئے ہمارے اپنے مایوس کن بلاوے کو نظر انداز کرنا جاری ہے،اور جیسا کے امریکی ایوینجلیکل شیطان کے طور پر طویل عرصے کے لیے افریقی سرزمین پربندھنوں سے آزاد ہو رہے ہیں۔ ” اپنےمحبت کے حق کے لیے تردید کرنے کے قرار داد جُرم کے گند کے لیے،ہم ایک قوم کے طور پر انسانیت کے خلاف جرائم میں شریک ہیں،یا اگر ہم نفرت کو ختم کرنے کی قابلیت کے رہنما نہیں ہیں، اور نہ ہی ہم زوما اور موگابے پر متاثر کرنے کے معتبر ہیں۔ اور باقی کا افریقہ جو کہ ایسی نفرت کے پیرلز ہے۔

براعظم سے اصلاحی عصمت دری کی گواہیوں کا ایک راؤنڈاپ یہ ہے :

اکتوبر میں، میں نے یوگنڈا رولنگ سٹون کے بارے میں لکھا تھا یوگنڈا میں ایک اخبار نے ہم جنس پرست لڑکے اور لڑکیوں کی تصاویر،نام اور پتے ان الفاظ کے ساتھ “رکو انھیں” تصاویر کے ساتھ شائع کیے۔جیسا کہ ہمیں اس فیصلے کا انتظار ہے،یہ واقعی میں آپ کو بتانا ضروری ہےکس طرح ہم جنس پرست لوگوں کے خلاف بڑھتی ہوئے افریقہ میں تشدد کے واقعات میں اصلاحی عصمت دری کی ولکشن مشق شامل ہے،جہاں عورتوں کی عصمت دری ہوتی ہے ،اور بعض صورتوں میں، ایچ آئی وی سے متاثر اور / یا حاملہ ہو جاتی ہیں۔

دو اہم کہانیاں جو کہ اس واقعہ کی سنگینی کا مظاہرہ کرتی ہیں زندہ بچ جانے والیں یوگنڈا میں رہنے والی شیلا امید موگیشا اور جنوبی افریقہ کی ملی سینٹ گائیکا کی ہیں.

گزشتہ سال، برطانیہ میں ایکشن ایڈ نےجنوبی افریقہ میں اصلاحی جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی دستاویزکاری کا ایک مطالعہ جاری کیا۔

بات چیت شروع کریں

براہ مہربانی، مصنف لاگ ان »

ہدایات

  • تمام تبصرے منتظم کی طرف سے جائزہ لیا جاتا ہے. ایک سے زیادہ بار اپنا ترجمہ جمع مت کرائیں ورنہ اسے سپیم تصور کیا جائے گا.
  • دوسروں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں. نفرت انگیز تقریر، جنسی، اور ذاتی حملوں پر مشتمل تبصرے کو منظور نہیں کیا جائے.