وں پر سب کی رسائی ہو سکےتمام زبانوں کی فہرست دیکھیں جن میں گلوبل وائسز پر ترجمہ کیا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر کی کہانیا

کیوبا : رہائی کے لئے تیار ہے؟

جیسا کہ کیوبا کے باون سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کے ارادے کی خبر گردش میں ہے، گلیرمو فارنس ،جوضمیر کے پچیس قیدیوں کی رکاوٹ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کے لیے بھوک ہڑتال کر چکا ہے۔ وہ کہتا ہے ۔کہ “وطن رہنماوں کی ضرورت ہے“، جو مبینہ طور پر موت کے قریب ہے۔بلاگرز واقعات درج ذیل ہیں۔ ۔ ۔ ۔

غیر معمولی مُشاہِدہ پوسٹس فارنس کے ایک مضمون کے جواب میں بیان اس ہفتے کے گرین ماں میں شائع ہوا، اور کہتا ہے:

غیر معمولی مُشاہِدہ پوسٹس فارنس کے ایک مضمون کے جواب میں بیان اس ہفتے کے گرین ماں میں شائع ہوا، اور کہتا ہے:

فارنس کا احتجاج شاید اس کی موت کے ساتھ ہی ختم ہو، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ایک بیہودہ جنبش میں رہا ہے۔

مزید دنیا میں اس کا نام ہے ، اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ دنیا اس کی راہ سے خوب آگاہ ہے۔

مزید ویٹیکن اور آمر کے درمیان سفارتی معاملات سے زیادہ اس کی قربانی ، یا آمر اور سپین کے درمیان، کسی بھی ترقی کے لئے بنیادی طور پر ذمہ دار ہے۔ جو کہ سیاسی قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کی ممکنہ رہائی کی طرف سے حالیہ مہینوں میں کی گئی۔

اس قربانی کے ساتھ ، اور یہ کہ جزائر پر دوسرے بہادر کیوبنز ، فارنس آمریت کو یہ پہچاننے میں مجبور کر چکا ہے کہ حیثیت، سیاسی قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کی مسلسل قید اب مزید مستحکم نہیں ہے۔

اس کے لئے ، آمریت بہتر طور پر فارنس کی درخواست کے لیے جوابدہ ہو گی۔
اس سے پہلے اس کی زندگی بچانے کے لئے دیر ہو جائے۔کیونکہ جیسا کہ اس نے کہا تھا، کہ اس کا خون ان کے ہاتھوں ہو گا

بلاگرز سیاسی قیدیوں کی ، قریب آنے والی رہائی کی خبر پر کسی بھی قسم کے شک کوترک کرتے ہوئے تبصرہ کرتے ہیں ، جیسا کہ وہ کہاں سوچتا ہے کہ کریڈٹ کی وجہ ہے:

‘اگر قیدیوں کی دسیوں’ آنے والے ہفتوں میں رہا ہو جائے، تو تمام کریڈٹ ان کیوبنزکے سر ہو گا۔ جو کہ زبردست حالات کے خلاف ہیں۔ جو ہمت سے اپنے حقوق ،اور تمام کیوبنز کے حقوق کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ انکا عزت و احترام کیا جائے گا۔

کیوبنز ، اور جزائر سے دور ہمارے دوست ، جو کیوبا کے سیاسی قیدیوں کی کہانیاں زبردستی اور بار بار سنانے میں ہماری صلاحیتوں اور مواقع کو استعمال کر چکے ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر ، سینکڑوں ، اگر کیوبنز کی تعداد ہزاروں میں نہیں ہے تو، جو کہ آزادی، ان کے ساتھی کیبوبنزاور خدا پر مسلسل ایمان کی وجہ سے کاسترو گولگ میں قید ہیں۔ جیل میں، جو کہ اپنی راہ میں سچے ہیں۔ اور اپنے کیپٹرز اور دنیا سے مظاہرہ کر چکے ہیں۔ کہ ان کے جذبات ٹوٹے نہیں ہیں۔

یہ فتح ، اگر ان کی غیر مشروط رہائی کے ساتھ ہوتی ہے تو، صرف انکی ہو گی۔

دریں اثنا ، کیوبا تربج کا خیال ہے کہ زیر التواء قیدی ریلیز کے بارے میں اعلان “ایک بہت ہی مثبت پیش رفت ہے” :

اس کا نتیجہ اگر سب کامیابی سے ہوتا ہے تو، جو باقی جیل میں پیجھتر قیدی رہ گئے ہیں، کی رہائی ہو گی۔ جو کہ میرے خیال میں، سال 2003 میں موسم بہار میں نا حق ہو گا۔ وہ ایک مختلف قسم کے گروہ ہیں جسمیں وریلا منصوبہ کے پیچھے تقریبا تمام اصل کارکن شامل ہیں، نواز اصلاحات کی درخواست مہم کی قیادت اسوالڈو پایا اور عیسائی لبریشن موومنٹ کی طرف سے کی گئی۔

اگر یہ رہائیاں ہوتی ہیں تو، میری گنتی فوری کیوبا میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی فہرست میں چھوڑ ے گئے درجن ضمیر کے قیدیوں کے متعلق ہو گی۔

انہوں نے اس مسئلہ پر بھی بات کی کہ کیا ان کی رہائی ملک چھوڑنے کی کنڈیشن سے منسلک ہے

مجھے کسی سے جو اس عمل کے قریب ہے پتا چلا کہ، رہائیاں ان قیدیوں پر جو ملک چھوڑ رہے ہیں۔ سے غیر متوقع ہیں۔ جو کہ ملک کو چھوڑ سکتے ہیں، جسکا مطلب جو یہ کہتا ہے، اسکا مطلب، یہ ضروری نہیں ہے ۔سالوں میں بہت سے معاملات پر، کنڈیشن جو کہ درحقیقت نافز کی گئی، جبری رخصتی کے لئے تجارتی قید کی سزا_ لیکن شاید اس صورت میں نہیں۔ اور پیجھتر میں سے بہت سے، جو کہ حالیہ سالوں میں رہا کیے گئے۔ مثال کے طور پر ہیکٹر پیلاسوئس ، آسکر ایسپینوسا چاپی– کیوبا میں تھے..

نوے میل دور…. کسی دوسرے ملک میں ، تا ہم ، اس بات سے اختلاف بھی جنم لیتا ہے

کیوبا میں پچاس سیاسی قیدیوں ، کی تجویز پیش کی رہائی کی میڈیا کوریج کو دیکھتے ہوئے ،ایسا لگے گا کہ جیسے پورے جزیرے کو آزاد کرا لیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ فوکس نیوز ایک بینر چلا رہا ہے جو کہ اشارہ کرتا ہے رہائی کے وعدہے کے ساتھ_مزید منصفانہ طور پر پچاس کی جبری رہائی کو بیان کیا، کیوبا میں صرف سو سیاسی قیدی رہ گئے ہیں۔جبکہ سپین ، چرچ ، اور ایم۔ایس۔ایم حکومت کی بندوں پر مہربانی کی خوشی مناتے ہیں،وہ ان سب کے بارے میں بھول جاتے ہیں جو دوسری بنیادوں پر قید تھے۔ لیکن سیاسی وجوہات کی بنا پر، بلیک مارکیٹ رنگ ، خریدنے والے لوگوں کی طرح الزامات کی بنیاد پر، وغیرہ،،،وغیرہ۔۔ ۔ ۔درسی فیرر، کوئی ہے؟

جنریشن وائی ، ہوانا سے بلاگنگ ، کہتے ہیں

سرگوشیاں آتی اور جاتیں رہتی ہیں،ان میں سے لفظ ‘آزادی ایک مدت کے لئے ناپاک معنی کے ساتھ پھنس گیا’ جس کے معنی ملک بدری کے ہیں۔ وہ براہ راست جیلوں سے طیاروں میں جائیں گے، ایک آدمی جو کہ اپنے کان ہر وقت ریڈیو سے لگائے رکھتا تھا، نے مجھے بتایا، اس بنیاد پر جو وہ شمال کی طرف سے ممنوع نشریات پرسنتا ہے ۔جبری نرواسن ، اخراج ، جلاوطنی ، اسنتجوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی معیاری مشق کی گئی۔

وہ بیان کرتی ہیں

حتی کہ جمبو جیٹ ممکنہ طور پران کے خیالات یا ان کے سول کاموں کے لئے قید خانہ جانے کے خطرے پر ان تمام کی نقل و حمل نہیں کر سکتا۔ہفتہ وار پروازوں کا ایک پکے ایر لائن کے ساتھ ا ن سب کو ہٹانا ضروری ہو گا۔ جو راؤل کاسترو کی انتظامیہ کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے۔ لیکن ، جیسا کہ یہ بدلتا ہے ، ہم میں سے بہت سے جانا نہیں چاہتے۔ کیونکہ یہاں یا وہاں رہنے کا فیصلہ کچھ اس طرح سے زاتی ہے کے جیسے ساتھی کا انتحاب، یا بچے کا نام رکھنا۔ایسا کرنا جائز نہیں ہے کہ اتنے کیوبنز خود کو جیل کی دیواروں اور جلاوطنی کی تلوار کے درمیان جکڑا ہوا پائیں۔ ان لوگوں کو ہجرت کرنے پر مجبور کرنا غیر اخلاقی ہے،جو شاید آنے والے دنوں میں رہا ہو سکتے ہیں۔

ایلیوما اتفاق کرتے ہیں

کیوبا کی حکومت کی دیرینہ پالیسی میں سے ایک یہ رہی ہے کہ اسکی برآمد سے اختلاف رائے کو ناکام کرنا ہے۔

اسکے بارے میں ھرننڈز بستو یہ مشاہدہ کرتے ہیں۔ لہزا ان قیدیوں کا جو رہا کیے جا رہے ہیں کا ممکنہ فائدہ یہ ہو گا جو کہ صرف ان کے بنیادی انسانی حقوق کی ایک نئی خلاف ورزی کی طرف جاتا ہے، جو کہ زبردستی اپنے ہی ملک سے ملک بدر نہیں ہوئے۔

یہاں تک کہ اس جھگڑے کے ساتھ ،تاہم، کیوبا تربج یہ کہتا ہے کہ ” کیوبا کےسیاسی منظر نامےمیں ایک نئی خصوصیت ہے۔ ملک کے سب سے بڑے خود مختار ادارے کیتھولک چرچ کے طور پر کیوبا کی حکومت اور کیوبا سول سوسائٹی کے درمیان بات چیت۔“

مزید اہم ، کیوبا کی حکومت سرکاری میڈیا میں اعتراف کر چکی ہے کہ یہ بات چیت ہو رہی ہے اور اس میں قیدیوں کا موضوع بھی شامل ہے۔ میرے لئے ، اسے ترقی کے طور پر شمار کیا جانا چاہیے۔

اسے بھی ترقی کے طور پر شمار کیا جانا چاہیے۔کہ نتائج کو حاصل کرنے کے لئے عمل شروع ہو رہا ہے.کوئی بھی یہ بحث نہیں کر سکتا کہ یہ کیوبا میں انسانی حقوق کے مجموعی مسائل حل کر سکتے ہیں۔یا یہ کہ جیسے ہی عمل شروع ہو چرچ پر تنقید کرنا مدافعتی ہو جائے گا۔ اور نہ ہی کوئی انکار کر سکتا ہے کہ یہ اس سے پہلے، اور شاید کیوبا شہریوں کے احتجاجی مظاہروں اور بھوک ہڑتال میں حصہ لینے کی وجہ سے ہوئی۔
لیکن یہ نتائج حاصل کرنے کی شروعات ہےجہاں پابندیاں ، فاصلے ، بیانات ، اور ہر قسم کی حکومت کی تبدیلی کے منصوبے نہیں ہیں۔

وقت ثابت کردے گا، لیکن عبوری میں، نوے میل دور ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی دوسرا ملک مبا لغے کے ساتھ خبریں سننا پسند کرتا ہے۔

میں دل و جان سے خوش ہوں کہ وہ جنہیں مارا گیا اور جن پر تشدد کیا گیا ، انہیں اب اور مارا اور پیٹا نہیں جائے گا۔صرف انہیں رائے لینے کے جرم میں مستقل طور پر اپنے آبائی ملک سے جلا وطنی پر مجبور کیا جائے گا۔لیکن میں سیبلز(آلہ)کو بجانا ، اور اوپر اور نیچے خود رفتگی میں چھلانگ نہیں لگاو گا۔ جب تک مجرم چلا نہ جائے اور شکار آخری آزادی پر ہو۔۔

بات چیت شروع کریں

براہ مہربانی، مصنف لاگ ان »

ہدایات

  • تمام تبصرے منتظم کی طرف سے جائزہ لیا جاتا ہے. ایک سے زیادہ بار اپنا ترجمہ جمع مت کرائیں ورنہ اسے سپیم تصور کیا جائے گا.
  • دوسروں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں. نفرت انگیز تقریر، جنسی، اور ذاتی حملوں پر مشتمل تبصرے کو منظور نہیں کیا جائے.