وں پر سب کی رسائی ہو سکےتمام زبانوں کی فہرست دیکھیں جن میں گلوبل وائسز پر ترجمہ کیا جاتا ہے تاکہ دنیا بھر کی کہانیا

عالمی: یونانی زبان کا انگریزی میں ترجمہ، چینی زبان کا روسی میں ترجمہ، اور ہسپانوی کا مقدونيائی میں

ہم سب مضحکہ خیز صورت حال کے بارے میں سن چکے ہیں۔ جب مہاوریدار اظہار کا عجیب وغریب ترجمہ ایک زبان سے دوسری زبان میں مضحکہ خیز معنی پیدا کرتا ہے۔مہاورات کا ترجمہ بے شک ترجمہ میں سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک ہے ، دونوں انسانوں اور مشینوں کے لیے۔ اہم مشکل مہاورات کے لسانی کردار میں پیش آتی ہے.جس کے معنی اتحادی الفاظ کے معنی سے حاصل نہیں کیے جا سکتے ۔مثال کے طور پر ایک بہترین انگریزی مہاورے کی گھسی ہوئی مثال یہ ہے کہ کک دا بکٹ، کا لفظی مطلب ‘مرنا ،’ ھے۔ اسکا لات مارنے اور بکٹ کے ساتھ کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

وک ایڈیمز ایک نیا آن لائن وسائل ہے جسکا مقصد مترجمین کے اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے ان کی مدد کرنا ہے۔ ہم نے اس سائٹ کے تخلیق کار پاول کیٹس اور اس کے کنٹریبیوٹر میں سے ایک سے بات کی۔ جسکا نام یسنا ٹرنڈافلووسکا تھا۔ تاکہ وہ اپنے طور پر بہترین طریقے سے اس خدمت کی وضاحت کر سکیں۔

سوال: پاول، کیا آپ وک ایڈیمز کا تعارف دو جملوں میں کر سکتے ہیں؟

جواب: بنیادی طور پر خیال ایک ایسا ویب ماحول فراہم کرناہے۔ جہاں لوگ مہاورات کا ترجمہ کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کر سکیں۔ جو کہ ترجمہ کرنے میں، سب سے مشکل چیلنجز میں سے ایک ہے۔ ظاہر ہے، جب میں کہتا ہوں کہ مہاورات کا ترجمہ؛ میرا مطلب اسکے لفظی معنٰی نہیں،بلکہ مطلوبہ زبان میں ایک برابر مہاوریدار اظہار کا ہوتا ہے۔ یا معنی کے اظہار کے لیے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا۔ منصوبہ اس کے دل میں باہمی تعاون کا ساتھ ہے ، لہذا ویب اس کے لئے ایک مثالی جگہ ہے.

سوال:کمیونٹی کوکس طرح منظم کیا جاتا ہے؟

جواب: کمیونٹی کے زیادہ تر ممبران پیشہ ور مترجمین ہیں۔ جو کہ اپنی ترجمے کی نوکری کے درمیان کچھ وقت بچا کرہماری مددکرتے ہیں۔ یہ لوگ مہاوریدار اظہار کا ترجمہ کرنے کے چیلنجز سے خوب واقف ہوتے ہیں، جیساکہ وہ خود بھی ہر وقت یہی کرتے ہیں۔ لیکن ہم کنٹریبیوٹرز کو مترجمین تک محدود نہیں کرتے، اور ہم ایک لسانی اتساہی کی اہم شرکت دیکھ چکے ہیں۔ جو کہ ترجمہ کہ کاروبار سے غیر متعلقہ ہے۔دیکھو ، بہت سے لوگوں کو لسانی چیلنجوں کے نمٹنے سےپیار ہوتا ہے۔ جب یہ انکی آبائی زبانوں کے متعلق ہوتے ہیں۔

سوال: کیا آپ ہمیں اعدادوشمار کے بارے میں تھوڑی سی معلومات دے سکتے ہیں؟ کتنے کنٹریبیوٹرز ، کتنی زبانوں میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جواب: تیزی سے شرکت کرنے والی کمیونٹی میں مترجمین کی تعداد سو سے زیادہ ہے۔ اور یہ بڑھ رہی ہے۔ منصوبہ بلکہ چھوٹا ہے۔ مگر ہم پہلے ہی تیس سے زاید زبانوں میں تیس ہزار سے زاید اظہار پر فخر کرتےہیں۔ اورکامیابی کی کوئی حد نہیں ہے۔

سوال: کون اس سائٹ میں شرکت کر سکتا ہے؟

جواب: ہم۔ ۔ جیسا کے میں نے اوپر بیان کیا ہے کہ ہم اپنے کنٹریبیوٹرز کو محدود نہیں کرتے۔ تو یہ کوئی بھی کر سکتا ہے۔ظاہر ہے ، ایسی پالیسی شراکت کے مواد پر کچھ اعتدال پسندی کا مطالبہ کرتی ہے۔ اور یہ اعتدال ہماری کمیونٹی کے کئی اراکین کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ ہم پیشہ ور مترجمین کو بھی مدعو کرتے ہیں۔ جو کہ کبھی کبھار کی شراکت سے پرے،،، ہماری مدد کےلیے ہم سے براہ راست رابطہ کرنا پسندکرینگے۔ مخصوص منصوبوں کی ایک بڑی تعداد ہے، تمام بہزبانی ترجمہ سے منسلک، جو کہ ہم وک ایڈیمز کے اندر تشکیل دے رہے ہیں۔ اور ہم اتحادیوں کی تلاش میں ہیں.

سوال: ہمیں ویب سائٹ کا استعمال کیوں کرنا چاہیئے؟

جواب: یہاں پر ایک مثال دینا بہتر ہوگا۔ فرض کریں کہ آپ گلوبل وائسز کے ارٹیکلز کا ترجہ انگریزی سے دوسری زبانوں میں کر رہے ہیں۔ جو کہ ایک انگریزی اظہار پر مشتمل ہے۔ ‘یہ میرے لئے يونانی ہے!’ اس طرح کہ کچھ متن مکمل طور پر بولنے والے کے لیے غیر واضح ہیں. آپ کیسے ان معنٰی کو ایک ہی نرالے انداز میں دیگر زبانوں میں بیان کرینگے؟ اب وک ایڈیمز کی مدد سے آپ جانتے ہیں کہ دوسری زبانوں کے بھی ایک ہی خیال کو ظاہر کرنے کے لئے اپنے طریقے ہیں : روسی چینیوں کا اور مسیڈونینز ۔ ۔ ۔ ۔ سپینیرڈز کاحوالہ دیتے ہیں۔

سوال: یسنا، آپ کیوں اور کیسےوک ایڈیمز میں شامل ہوئے؟

جواب:وک ایڈیمز میں میری شمولیت اچانک ہی ہوگئی۔ جب يونانی ساتھی اور میرے دوست نے مجھے مترجمین کی وک ایڈیمز میں شراکت کے لیے پاول کی کال کے ساتھ ایک ای میل بھیجی۔ یوں تو میں بہت تھوڑی دیر کے لئے ایک مترجم کے طور پر کام کر رہا تھا۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ جب ایسی صورتحال مقدونيائی زبان میں آتی ہے، تو ویب پر ذرائع اور لغات کو تلاش کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ جو کہ تمام مترجمین کو ان کا کام تیزی سے ، مناسب اور مؤثر طریقے سےکرنے میں ان کی مدد کرے گے۔ تو میں نے محسوس کیا کہ اس صورتحال کو تبدیل کرنے کا ایک عظیم موقع ہے۔ لیکن، کیونکہ ہر چیز کے بارے میں جاننا ایک شخص کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اور کیونکہ زبانیں نامیات ہیں۔ جوکہ مسلسل تبدیل ہو رہی ہیں اور ترقی کر رہی ہیں، میں اپنے تمام ساتھیوں کو مدعو کرنا چاہوں گا، اور خاص طور پر گلوبل وائسز میں دنیا بھر میں، زبان کی ٹیموں کے ان لوگوں کو ، کہ وہ ہمارے ساتھ شراکت کریں اور ہم سے ملاقات کریں۔

سوال: آپ بھی مقدونيائی میں گلوبل وائسز کے شریک کار ہیں۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کیسے آپ کو منصوبے کے بارے میں پتا چلا۔ اور کس نے اس میں شامل ہونے کے لیے آپ کی حوصلہ افزائی کی؟

جواب:میں گزشتہ گیارہ سالوں سے یونان میں رہ رہا ہوں۔ کیونکہ میں نے ایک يونانی سے شادی کی ہے ،گھر میں ہم يونانی زبان ہی بولتےہیں.وقت کے ساتھ ساتھ ، میں نے محسوس کیا کہ مجھے اپنی مادری زبان کے الفاظ بھولنا شروع ہو گئے ہیں ۔ اور یہ بہت تکلیف دہ تھا.میں نے ایک حل تلاش کرنا شروع کر دیا.اور میں نے اسے گلوبل وائسز پر مختلف متون کے ترجمے میں پایا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ کوئی ڈیڈ لائن نہ ہونے کی وجہ سے بہت ہی حوصلہ افزائی ہے۔ کوئی کشیدگی ، کوئی جلدی نہیں ہے اور مجھے لگتا ہے کہ جب آپ صرف اس کی رضا کے لئے کچھ کرتے ہیں ،تو اس کے نتائج بہت،بہت اچھے ہوتےہیں۔

بات چیت شروع کریں

براہ مہربانی، مصنف لاگ ان »

ہدایات

  • تمام تبصرے منتظم کی طرف سے جائزہ لیا جاتا ہے. ایک سے زیادہ بار اپنا ترجمہ جمع مت کرائیں ورنہ اسے سپیم تصور کیا جائے گا.
  • دوسروں کے ساتھ عزت سے پیش آئیں. نفرت انگیز تقریر، جنسی، اور ذاتی حملوں پر مشتمل تبصرے کو منظور نہیں کیا جائے.